بھارت میں ایٹمی مواد یورینیم کی چوری اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی » Kashmir Media Service

تحریر: محمد شہباز
بھارت میں غیر مجاز افراد سے سات کلو گرام سے زائد قدرتی یورینیم کی برآمدگی نے اس انتہائی حساس مواد پر ریاستی کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ خبر پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی ہے کہ بھارتی ریاست مہاراشٹراکے شہر ممبئی میں پانچ مئی کو دو افراد کے قبضے سے سات کلو سے زائد قدرتی یورینیم برآمد کیا گیا جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بھارت ایک غیر ذمہ دار ایٹمی ملک اور سیکورٹی رسک ہے۔ بھارت میں قدرتی یورینیم کی برآمدگی کا واقعہ پہلی بار رونما نہیں ہوا بلکہ 2016میں بھی دو افراد سے آٹھ کلو گرام خام یورینیم برآمد کیا گیا تھا جبکہ رواں برس 13مارچ کو نیپال میں ایک شخص سے ڈھائی کلو گرام یورینیم پکڑا گیا جسے بھارت سے سمگل کیا گیا تھا۔ بھارت میں سات کلو گرام کی برآمد کا یہ تازہ واقعہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اسے یونہی نظر انداز کیا جائے کیونکہ یورینیم کوئی عام استعمال کی چیز نہیں ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں حساس ایٹمی مواد ریاست کے کنٹرول سے باہر کیسے آیا یہ سوال ہے جسکا جواب تلاش کرنا کیا خود عالمی ایٹمی ایجنسی ‘ائی اے ای اے’ کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ سمگلر تابکاری مواد کو کسی بھی ہتھیار سے جوڑ کر دھماکہ کر سکتے ہیں جس سے ڈرٹی بم کا نام دیا گیا ہے۔ ڈرٹی بم دھماکے کے نتیجے میں نقصان اگر نقصان اگر چہ اٹیم بم جتنا نہیں ہوگا تاہم بم پھٹنے کے مقام اور نزدیکی علاقوں میں تابکاری اور طویل آلودگی کے امکانات ہونگے۔
پاکستان نے بھارت میں یورینیم برآمدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کئی سولات اٹھائے ہیں کہ یہ کیونکر اور کیسے عام افراد کے ہاتھ لگا۔ اس پر جامع تحقیقات اور ان وجوہات کی نشاندہی کی جائے کہ قدرتی یورینیم چوری کیسے ہوا۔کیونکہ سات کلو گرام یورینیم کا بھارتی حکومت کی گرفت سے باہر عام لوگوں کے ہاتھ لگنا خود بھارت اور عالمی توانائی ایجنسی کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔
شوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے اور صارفین نے لکھا ہے کہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے حوالے بے نقاب ہو گیا لہذا اس پر پابندی عائد کی جانی چاہئیںکیونکہ وہ ایٹمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک صارف نے لکھا ہے کہ اگر یہ سب کچھ پاکستان میں ہوتا تو بھارت آسمان سر پر اٹھا لیتا لہذا حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں جاندار موقف اپنا کر بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔ بھارت میں بڑی مقدار میں یورینیم کی چوری بذات خودگونگی بہری اور اندھی عالمی برادری کیلئے ایک سوالہ نشان ہے کہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف وہ ہاتھ دھو کے پیچھے پڑتی ہے جبکہ وہ بھارت کے حوالے سے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اس دوہرے معیار نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔
عالمی برادری کو تعصب کی عینک اتا ر بھارت کے خلاف سخت اور موثر کارروائی کرنی چاہیے کہ آخر یورینیم چوری ہوا کیسے۔


Leave a Reply

Kashmir Media Service | Login