گجرات فسادات کے متاثرہ مسلمان ابتر زندگی گزانے پر مجبور

احمد آباد30 جون (کے ایم ایس)بھارت میں 2002میں ہونے والے گجرات فسادات کو 20برس گزر چکے ہیں لیکن اب تک متاثرین کو انصاف نہیں ملا ۔ متاثرہ مسلمانوں کو مختلف فلاحی تنظیموں کی طرف سے شہر کے متعدد مقامات پر بسایا گیا تاہم وہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور مفلسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق 2002میں گجرات میں ہونے والے فسادات میں ہزاروں مسلمان قتل کر دیے تھے ۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے احمد آباد کے شاہ عالم کیمپ میں پناہ لی تھی ۔ فساد کے چھ ماہ بعد کیرالہ سٹیٹ مسلم لیگ ریلیف کمیٹی اور دیگر تنظیموں نے متاثرین کیلئے احمد آباد شہر کے سٹیزن نگر بحرام پور وارڈ میں متعدد مکانات تعمیر کیے تھے جہاں بیس برس سے رہنے والے متاثرین آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ سید بادشاہ نامی ایک متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ بیس برس قبل ہمارا کنبہ بارہ افراد پر مشتمل تھا لیکن اچانک برپا ہونے والے فساد میں میرے دو بھائی مار ے گئے اور ہندوﺅں بلوائیوں نے ہمارے گھر کو نذر آتش کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میںہمیں شاہ عالم کیمپ میں پناہ لینی پڑی ۔ ایک فساد متاثرہ خاتون بتاتی ہیں کہ ہم لوگ گلبرگ سوسائٹی میں رہتے تھے تاہم فساد نے سب کچھ ختم کر دیا اور ہم کیمپوں میں منتقل ہو گئے۔ انہوںنے کہا کہ گلبرگ سوسائٹی آج بھی ویران ہے اور ہم لوگ یہاں گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں ۔ ایک متاثرہ شخص نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ہم آج بھی سرکاری ہسپتال اور سکول کے بغیر رہ رہے ہیں۔ جس جگہ متاثرین کو رکھا گیا ہے وہاں پورے احمد آباد کا کوڑا کرکٹ ڈمپ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی رہتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: