امریکی سفیر کا کشمیر پر بیان قانونی و سیاسی طور پر نامناسب ہے: مسعود خان
امریکی پالیسی میں کشمیر سے متعلق کوئی تبدیلی نہیں آئی: سابق صدر آزاد کشمیر

اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیر سے متعلق بھارت میں امریکی سفیر کا حالیہ بیان قانونی اور سیاسی طور پر نامناسب ہے اور اسے مسئلہ کشمیر پر امریکا کے دیرینہ موقف میں کسی تبدیلی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ایک ٹی وی انٹرویو میں سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت میں امریکی سفیر سے منسوب مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بیان درست نہیں، کیونکہ امریکا نے باضابطہ طور پر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی اور نہ ہی جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ تسلیم کیا ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکا تاریخی طور پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی متعلقہ بحث اور قراردادوں سے بھی وابستہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بدستور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود حل طلب تنازعہ ہے اورسلامتی کونسل کی قراردادیں نہ تو نافذ ہوئی ہیں اور نہ ہی ختم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر یہ بیان درست نہیں اور موجودہ صورتحال میں، بالخصوص ایسے وقت جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، یہ ریمارکس سیاسی طور پر بھی نامناسب ہیں۔سابق صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ معرکہ حق اور اس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر مسئلہ کشمیر کے حل پرزوردیاتھا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس موقف کا بھی حوالہ دیا جس میں پاکستان اور بھارت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنے باہمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کریں۔سردار مسعود خان نے کہا کہ ان پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن کے جموں و کشمیر سے متعلق موقف میں کوئی باضابطہ تبدیلی نہیں آئی۔ لہذا امریکی سفیر سے منسوب ریمارکس کو امریکی محکمہ خارجہ کی باضابطہ توثیق کے بغیر پالیسی میں تبدیلی قرار نہیں دیا جاسکتا۔سردار مسعود خان نے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے امریکی سفیر کے ریمارکس پر احتجاجی مراسلہ دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے مناسب طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جس کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق طے کی جانی ہے۔






