پاکستان

واشنگٹن اورانقرہ میں پاکستانی سفارت خانوں کے زیر اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر تقاریب کا انعقاد

واشنگٹن:امریکی دارلحکومت واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے کے زیر اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کی پاکستان کی مکمل حمایت کااعادہ کیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امریکہ میں پاکستان کے سفیر، رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں تنازعہ کشمیر سے متعلق حقائق اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کواقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے پرامن طورپر حل کیاجاسکتا ہے ۔ رضوان سعید شیخ نے کہاکہ حالیہ اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت کی روشنی میں کشمیر کے بارے میں عالمی نقطہ نظر تبدیل ہوا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ موقف کی تائید کرتا ہے۔انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا۔عالمی کشمیر آگاہی فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے اپنے خطاب میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری رہنمائوں مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک ،شبیر شاہ اور مسرت عالم کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کشمیری نظربندوں کو انہیں عظیم نیلسن منڈیلا سے تشبیہ دی۔غلام نبی فائی نے رواں سال مئی میں بھارت پاکستان جنگ بندی کرانے کے بعد صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا حوالہ دیا اور کشمیریوں کی جاری جدوجہد کے لیے نیک تمنائوں اور امید پر زور دیا۔تقریب کے شرکا نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
ادھرانقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کے 78سال مکمل ہونے کے سلسلے میں منائے جانیوالے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر تقریب کا اہتمام کیا۔ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے اپنے خطاب میں کشمیر کے مسئلے پر اصولی اور واضح موقف اختیارکرنے جنرل اسمبلی سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگرکرنے پر ترکیہ اور صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔سابق ترک وزیرِ زراعت مہمت مہدی ایر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد انصاف اور سچائی کی وہ جنگ ہے جسے کوئی طاقت دبا نہیں سکتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیری عوام جلد اپنے حق خودارادیت کا حق حاصل کر لیں گے۔سعادت پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محمود آریکان نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ انصاف، انسانیت اور وقار کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کشمیر اور غزہ کے حالات میں مماثلت بیان کی اوراقوامِ متحدہ اور او آئی سی پرزوردیاکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔تقریب میں ترک پارلیمنٹ کے ارکان، سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم، میڈیا نمائندوں، اور پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button