مقبوضہ جموں و کشمیر

کشمیریوں کو مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی اورنا انصافیوں کا سامنا

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی حکومت نے اگست 2019کو مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد اپنی ریاستی دہشت گردی اور سیاسی ناانصافی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج "دہشت گردی کے متاثرین کو یاد کرنے اورانہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن”کے موقع پر جاری ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجی اہلکاوںنے جنوری 1989سے اب تک 96ہزار502سے زائدبے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ آٹھ ہزار سے زائد افرادکودوران حراست لاپتہ کر دیاگیا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باعث 22ہزار993 خواتین بیوہ اورایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے گزشتہ اڑتیس برس میں کم از کم 11ہزار285 خواتین کی عصمت دری کی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں میڈیا پرقدغن کے ایک اور واقعے میں بھارتی حکومت نے سیاسی آوازوں اور آزاد میڈیا کی خبروں کی اشاعت اور سوشل میڈیا اکائونٹس پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری گزشتہ 79برس سے ناقابل بیان مظالم برداشت کر رہے ہیں۔ کشمیری بھارتی فوجی قبضے، اس کی ریاستی دہشت گردی اور سیاسی ناانصافیوں کا شکار ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں ہر عمر اور جنس کے لوگوں کو انتہائی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا کہ 2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کشمیر میں مسلم دشمنی اور نفرت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ تاہم بھارتی جبر کشمیریوں کے عزم کو کچلنے میں ناکام رہا ہے اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔رپورٹ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے وحشیانہ اقدامات اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوںپر پر اپنی خاموشی ترک کرے۔
دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوامِ متحدہ اورانسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوںمیں قید حریت رہنمائوں اور کارکنوںسمیت تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button