سکھ قیدیوں کی مسلسل نظربندی کے خلاف بھارتی پنجاب میں شٹر ڈان ہڑتال
مارکیٹیں، فیکٹریاں، تجارتی مراکز اور نجی اسکول بند، ٹریفک متاثر

چندی گڑھ: سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کے حق میں بھارتی ریاست پنجاب میں آج مکمل شٹر ڈان ہڑتال کے باعث مختلف شہروں اور قصبوں میں بازار ، فیکٹریاں، تجارتی مراکز اور نجی اسکول بند ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال سکھ مذہبی و سیاسی تنظیموں کے اتحاد نے دی تھی جبکہ مختلف کسان تنظیموں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ پنجاب کے کئی شہروں اور قصبوں میں نجی بس آپریٹرز نے بھی ہڑتال کی جبکہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی حاضری انتہائی کم رہی۔پنجاب میں سکھ قیدیوں کی مسلسل حراست ایک حساس معاملہ ہے۔ سکھ تنظیمیں اور انسانی حقوق کے کارکن ایسے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو اپنی سزائیں مکمل کرنے کے باوجود کئی دہائیوں سے جیلوں میں قید ہیں۔ مہم میں بالخصوص ان قیدیوں کی رہائی پر زور دیا جا رہا ہے جنہیں 1980 اور 1990 کی دہائی میں درج جھوٹے مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔پٹیالہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھ کارکن گرچرن سنگھ نے کہا کہ سزائیں مکمل ہونے کے باوجود قیدیوں کو جیلوں میں رکھنا انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت اور پنجاب انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ قیدیوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔پریس کانفرنس میں شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے رکن سرجیت سنگھ گڑھی، شرومنی اکالی دل(امرتسر)کے پروفیسر موہندر پال سنگھ اور ہربھجن سنگھ، قومی انصاف مورچہ کے گرجنت سنگھ، وارث پنجاب دے اور مختلف کسان تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔رکن اسمبلی منپریت سنگھ ایالی نے سوال اٹھایا کہ سزا پوری کرنے کے باوجود سکھوں کو جیلوں میں کیوں رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے سکھ کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔




