خصوصی رپورٹ

بجبہاڑہ کا قتل عام بھارتی فوج کے سب سے بھیانک جنگی جرائم میں سے ایک ہے

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں آج بجبہاڑہ قتل عام کی 32ویں برسی منائی جا رہی ہے جو علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کیے گئے سب سے بھیانک جنگی جرائم میں سے ایک ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 22اکتوبر 1993کو بھارتی پیراملٹری بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہاڑہ میں پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 50سے زائدنہتے شہری موقع پر ہی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ مظاہرین سرینگر کی درگاہ حضرت بل کافوجی محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن بھارتی فوجیوں نے نہتے شہریوںکو گولیوں سے بھون ڈالا جس سے سڑکیں خون میں لت پت ہو گئیں۔عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ اس دن علاقہ مذبح خانے کا منظر پیش کررہا تھا جہاں مردوں، عورتوں اور بچوں پر اندھا دھند گولیاںبرسائی گئیں۔ 32 سال گزرجانے کے باوجود شہداء کے لواحقین آج بھی ا نصاف کے منتظر ہیں کیونکہ بھارت نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے سے انکار کیا ہے بلکہ قتل عام میں ملوث افسران کو ترقیوں سے نوازا ہے۔بجبہاڑہ قتل عام کی یادیں کشمیریوں کے دل ودماغ میں آج بھی تازہ ہیں۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989سے 96ہزار474کشمیریوں کو شہید کیا اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA)اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین کا سہارالیکر 25سے زیادہ قتل عام کیے۔ ان قوانین کے تحت کسی بھی سنگین جرم میں ملوث فوجیوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایاجاسکتا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت علاقے میں آج بھی اسی جابرانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ بجبہاڑہ قتل عام جیسی کارروائیاں کرسکے اورعلاقے پراپنے غیر قانونی قبضے کو مضبوط کرسکے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس قتل عام کی تحقیقات کرائے اور ان گھنائونے جرائم میں ملوث فوجیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔کشمیری عوام کئی دہائیوں کے قتل وغارت اور ظلم وجبر کے باوجود بھارتی قبضے سے آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں اورانہیں یقین ہے کہ بالآخرحق اور انصاف کی فتح ہوگی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button