کشمیر ی خواتین بے لگام بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں سخت ہراسانی کا شکار
جموں : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز اہلکار وں کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کی کارروائیوں کے دوران لوگوں خاص طورپر خواتین کو ایک منصوبہ بند طریقے سے ہراساں کیا جا تاہے ۔ ضلع کٹھوعہ کے گاﺅں خانک نرسری میں پیش آنے والا ایک تازہ واقعہ بھارتی فورسز اہلکار وں کی سفاکیت کا واضح عکاس ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرکاری ڈگری کالج برائے خواتین(جی ڈی سی ڈبلیو) کٹھوعہ کی 17 سالہ طالبہ سمیرا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ 25نومبرکو بھارتی پیرا ملٹری بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کا ایک دستہ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوا اور میرے کمرے میں گھس آیا ۔طالبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اسے ہوس بھری نظروں سے گھورتے رہے ، وہ ہنس رہے تھے اور انتہائی نازیبا جملے کس رہے تھے۔ سمیرا نے کہا کہ فوجیوںنے اسکی والدہ کو بھی ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ وہ دوبارہ آئیں گے ۔
طالبہ نے کہا کہ اس واقعے کے بعد وہ اور اسکے والدین اب خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس سمجھتے ہیں اور مسلسل خوف و دہشت کی صورتحال میں جی رہے ہیں۔ سمیرانے کہا کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے اغوا اور جنسی حملے کا نشانہ بننے کے خوف سے اسکے والدین اب اسے کالج چھوڑنے اور گھر پر رہنے کا کہہ رہے ہیں۔طالبہ نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں اس طرح کے واقعات بڑے پیمانے پر رونما ہوتے ہیں جبکہ خواتین اور لڑکیاں بدنامی کے ڈر سے اکثر خاموش رہتی ہیں۔
یا درہے کہ بھارتی فورسز مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین کی آبروریز کو ایک جنگی آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ فورسز نے اب تک ہزاروں کشمیری خواتین کو آبروریزی کا نشانہ بنایا ہے ۔1991میں ضلع کپوارہ کے علاقے ک±نن پوش پورہ میں ایک ہی رات میں ایک سو کے قریب خواتین کو بلا لحاظ عمر اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کسی ایک بھی مجرم فوجی اہلکار یا افسر کو سزا نہیں دی گئی۔اگست 2019میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد علاقے میں صورتحال اور بھی سنگین ہو گئی اور بھارتی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں ، گھروں پر چھاپوں ، خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کی اپنی بہیمانہ کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اورفہمیدہ صوفی سمیت تین درجن سے زائد خواتین بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ علاقے میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم پربھارت کا محاسبہ کرے۔





