خصوصی دنسمینار

مسئلہ کشمیرنوجوان نسل سے فعال کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے: مقررین سیمینار

اسلام آباد:انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینارکے مقررین نے کہاہے کہ مقدمہ کشمیر قانونی طور پر مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک ایسی جدوجہد ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق ہے جن میں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یوتھ فورم فار کشمیر کے تعاون سے منعقدہ سیمینار کے مقررین نے کہاکہ جغرافیائی سیاسی طاقتوں میں عدم توازن نے اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ڈالی ہوئی ہے اور پاکستان کے نوجوانوں پر ملک کے نظریاتی اصولوں کی روشنی اور رہنمائی میں اس مقدمے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سیمینارمیں سفارتکاروں، محققین اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آزاد کشمیر کے سابق صدراورسفارتکارسردار مسعود خان ، چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمن ، سیکرٹری آئی پی ایس ورکنگ گروپ برائے کشمیر فرزانہ یعقوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز ڈاکٹر ولید رسول، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے عمیر پرویز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ فورم فار کشمیر زمان باجوا سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں شامل تھے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ جنریشن زی سوشل میڈیا کی وسیع رسائی کی وجہ سے معلومات تک رسائی اور اظہار کے پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک منفرد طریقے سے بااختیار ہے۔ اس کے نتیجے میں اس نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف سطحوں پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو خود کو قوم کے معمار سمجھنا چاہیے اور اسی تناظر میں کشمیر کے مسئلے کو دیکھنا چاہیے اور اپنے اہداف کو پاکستان کے نظریاتی بنیادوں کے مطابق رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے کئی نسلوں نے قربانیاں دی ہیں اور اب یہ ذمہ داری پاکستان کے نوجوانوں پر منتقل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور کشمیری بھائی چارے کے مشترکہ نظریے کے ذریعے بندھے ہوئے ہیں اور مئی 2025کے واقعات نے اس اجتماعی عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ڈاکٹر ولید رسول نے کہا کہ 5جنوری 1949کشمیری تاریخ کا ایک اہم موقع ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح طور پر کشمیری عوام کو آزاد انہ اور غیر جانبدار ریفرنڈم کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیا۔ انہوں نے کہاکہ ان قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی مسئلے کی قانونی حیثیت کو کم نہیں کرتی۔ عمیر پرویز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ یہ کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خود ارادیت کا معاملہ ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں میں دی گئی ہے۔ خالد رحمن نے بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین جب اپنے عوام کو قائل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ اکثر عوام پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے انتشار اور افراتفری پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے صبر اور طویل مدتی حکمت عملی ضروری ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button