محبوبہ مفتی کی طرف سے میر واعظ کی گھر میں نظر بندی کی شدید مذمت
ہزاروں کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار

سرینگر: غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نیبھارتی قابض انتظامیہ کی جانب سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند رکھنے اور انہیں تاریخی جامع مسجد سرینگرمیں نمازعید ادا کرنے سے روکنے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے میر واعظ پر مسلسل پابندیوں کو مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے دیااور کہا کہ اس اقدام سے کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ نے گزشتہ وز میرواعظ کو بڈگام جانے سے روک دیاتھااورآج انہیں جامع مسجد میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔انہوںنے کہاکہ میرواعظ کو گھر میں نظربند رکھنا ایک معمول بن گیا ہے۔محبوبہ مفتی نے مقبوضہ کشمیراور بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کی حالت زار پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کشمیری غیر قانونی طورپر جیلوںمیں قید ہیں ۔بڈگام میں ایک کم عمر بچی کے حالیہ اغوا،بے حرمتی اور قتل کے حالیہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ اس سانحہ سے کشمیریوں کی عید کی خوشیاں سوگ میں بدل گئی ہیں ۔








