مضامین

بھارتی قیادت  کا مہم جو مزاج ،سینمازدہ جنگی جنون اورخطرناک اسٹریٹجک کم فہمی

تحریر: ارشد میر
بھارتی آرمی چیف کے حالیہ اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان جس میں انہوں نے نام نہاد "آپریشن سندور کو محض ایک ٹریلر قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ "اصل فلم ابھی باقی ہے”نے ایک مرتبہ پھر بھارت  میں موجود اُس خطرناک اورسینما زدہ ذہنیت کو بے نقاب کر دیا ہے جو قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو بھی فلمی ڈائیلاگز اور بالی وُڈ کی مبالغہ آمیز زبان یا روش میں ڈھال کر پیش کرتی ہے۔ اگر بھارتی حکمران خاص طور پر فوجی قیادت شرمدار ہوتی تو اس آپریشن سندور کا نام بھولے سے بھی نہ لیتی جسکے بارے میں دنیا جانتی ہے یہ حقیقتا بھارت کے غرور اور ارمانوں کا تندور بنا۔  بھارتی عسکری قیادت کی یہی غیر سنجیدگی خطے کے امن کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے اور یہ حقیقت بھی پوری طرح عیاں کرتی ہے کہ جنگ جیسے معاملے کو سیاسی فائدے، پروپیگنڈا اور قوم پرستانہ جنون کے تحت کس طرح فلمی رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ کی طرح بردباری، پیشہ ورانہ ذمہ داری، مکمل اسٹریٹجک تیاری اور انتہائی سنجیدہ رویّے کے ساتھ اس بیانیے کا جواب دے کر دنیا کو باور کرایا ہے کہ حقیقی ذمہ داری فلمی مکالمے نہیں بلکہ حکمت، ضبط اور عملی صلاحیت سے ظاہر ہوتی ہے۔

بھارت گزشتہ ایک دہائی سے جنگ کو بالی وُڈ کے ایکشن سین میں تبدیل کر چکا ہے۔ بھارتی سیاسی قیادت ہو یا اس کا میڈیا، دونوں قومی سلامتی کے معاملات کو "ٹریلر”، "ہیروئزم”، "فائنل شوڈاؤن”اور "سرجیکل اسٹرائیک” جیسے جذباتی استعاروں میں پیش کرتے ہیں۔گویا ایٹمی قوتوں کے مابین جنگ کوئی سنیما ہال میں چلنے والی فلم ہو۔ اس خطرناک سوچ نے بھارت کو کئی بار رسوائی، خفت اور بھاری قیمت چکوانے پر مجبور کیا ہےکیونکہ حقیقی جنگ نہ جذبات سے جیتی جاتی ہے، نہ ٹیلی ویژن اسکرینوں کے پروپیگنڈے سے اور نہ ہی اس میں ہیرو جیتتا ہے بلکہ حقیقت اور صلاحیت جیتتی ہے۔ ایٹمی ڈیٹرنس کی دنیا فلمی منطق نہیں بلکہ حساب کتاب، توازن، ضبط اور پیشہ ورانہ عسکری پلاننگ پر چلتی ہےاور بھارت کی بدنیت اور غیر سنجیدہ بالی وُڈ زدہ عسکری ذہنیت اس حقیقت کو آج تک سمجھ نہیں سکی۔

بھارت کو شاید 2019 کا وہ سخت دن آج بھی بھولا نہ ہو جب پاکستان نے بھارتی فضائی جارحیت کا جواب انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے دیتے ہوئے  اسکےدو طیارے مار گرائے، ایک پائلٹ ابھی نندن  کو گرفتار اور پھر” فنٹاسٹک چائے” پلاکر،نہلا دھلا کر، نئے کپڑے پہناکر اور گلدستہ ہاتھ میں تھماکر بھارت کو واپس  کیا اور دنیا کو یہ دکھایا کہ پاکستان نہ صرف عسکری اعتبار سے مضبوط ہے بلکہ اخلاقی برتری بھی رکھتا ہے۔ یاد کیجئے پاکستان نے 1999 میں کرگل کی لڑائی کے دوران بھی دو بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے علاوہ ناچی کیتا نامی پائلٹ بھی گرفتار کرکے ابھی نندن کی طرح بھارت کو "تبرکاً”واپس کردیا تھا۔  مگر افسوس کہ بھارت نے ان  تاریخی  اسباق سے کچھ نہ سیکھا بلکہ امسال دوبارہ سرجیکل اسٹرائیک نما ڈرامہ رچانے کی کوشش کی جس کا انجام پہلے سے زیادہ رسوا کن ثابت ہوا۔ پاکستان نے نہ صرف فوری طور پر اپنی مکمل Spectrum Deterrence کی صلاحیت کو فعال کیا بلکہ انتہائی منظم اور مربوط انداز میں رافیل سمیت سات ( بلکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق آٹھ) بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، دشمن کی زمینی پیش قدمی روکی، فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا ، اسے سفید جھنڈے لہرانے پہ مجبور کیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ جواب شور و غوغا سے نہیں بلکہ حقیقی طاقت اور عملی سکت وصلاحیت سے دیتا ہے۔

عالمی تھینک ٹینکس کی رپورٹس نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کا ردعمل نہ صرف مؤثر بلکہ بھارت کی توقعات سے کہیں زیادہ بھرپور، مربوط اور پیشہ ورانہ  تھا جس نے روائتی جنگی صلاحیت میں برتری کے بھارتی زعم یا مفروضے کو بھی زمین بوس کردیا۔ یہی وجہ تھی کہ چند دنوں میں بھارت  ہاتھ کھڑا کرنے پر مجبور ہوا اور نئی دہلی کو واشنگٹن، ریاض، انقرہ،  لندن اور یورپی دارالحکومتوں سے ثالثی کی درخواستیں کرنا پڑیں۔ وہ بھارت، جو  برتری کے زعم میں پاکستان کے ساتھ کوئی محدود پیمانے کی جنگ کے بہانے تلاش کرتا تھا، پاکستان اور چین کے ساتھ بیک وقت جنگ لڑنے کی صلاحیت کے حصول تک کے دعوے کرتا تھا، پاکستان کے ساتھ تنازعات خصوصا تنازعہ کشمیر میں تیسرے فریق کی ثالثی  سے انکار کرکے اپنی بدمعاشی سے  یکطرفہ طور پر چیزوں کا تعین کرنا چاہتا تھا،  کو  گھٹنے ٹیکنا پڑے اورمفروضے پر مبنی برتری سے بھی محروم ہونا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی جنگی پالیسی، اس کی عسکری سوچ اور اس کا سیاسی بیانیہ اندر سے کھوکھلا، غیر ذمہ دار اور فلمی ہےاور جب یہ فلمی بیانیہ حقیقی جنگ کے میدان میں آتا ہے تو اس کی حیثیت صفر ہو جاتی ہے۔

بھارتی سیاست نے اپنی سکیورٹی پالیسی کو مکمل طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ انتخابی فائدے، داخلی سیاست، مذہبی شدت پسندی اور قوم پرستانہ جنون کے اس ماحول نے بھارتی عسکری قیادت اور میڈیا کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جنگ کی منصوبہ بندی بھی سیاسی مقاصد کے تحت کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ایک ذمہ دار ریاست کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان نے  جنگِ مئی میں ایک بردبار اور منجھے ہوئے ملک کے متوازن کردار کا مظاہرہ کیا۔ قوم کے اعتماد کو قائم رکھا،  بیانیہ  کے محاذ پر برتری حاصل کی، بہترین دفاع اور دشمن کو دندان شکن جواب دینے کے ساتھ  عالمی رہنماؤں سے رابطے برقرار رکھے، اقوام میں برادری میں اپنی سنجیدگی، بردباری اور امن پسندی کی ساکھ قائم کی،اپنی عسکری قوت کو صرف اور صرف دفاع کے مقصد کے لیے استعمال کیا اور مجموعی طور ریاست کے، بطور خاص حالت جنگ میں، تمام عناصر کے تال میل اور توازن کو قائم رکھنے کی بہترین مثال پیش کی۔یہ وہ طرزِ عمل ہے جو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی پہچان ہے۔

پاکستان کی خاموش، منظم اور ذمہ دار قوت کا بھارت کے پاس آج تک کوئی جواب نہیں۔ بھارت پاکستان کے تحمل اور ضبط کو ہمیشہ کمزوری سمجھتا رہا ہے مگر ہر بار اسے غلط ثابت ہونا پڑا ہے۔ 2019 کی فضائی جھڑپ ہو، 2025 کی جنگ ہو یا آج بھارت کی نئی دھمکیاں،پاکستان کا رویّہ ہر بار متوازن، بروقت، اسٹریٹجک اور فیصلہ کن رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت کے بیانات، دھمکیاں، فلمی اسکرپٹس اور پروپیگنڈا ہمیشہ کھوکھلے ثابت ہوئے۔

بھارتی آرمی چیف کا ’’اصل فلم ابھی باقی ہے‘‘ جیسا بیان ان کی اس ذہنی ساخت کی عکاسی کرتا ہے جو عسکری حقیقتوں کے بجائے سیاسی ضرورتوں اور فلمی مکالموں سے جنم لیتی ہے۔ لیکن بھارت جان لے کہ پاکستان فلمی دنیا کا حصہ نہیں، وہ ایک بڑی حقیقت ہے جو آج تک کئی امتحانات دے کر اپنے آپ کو منواچکی ہے۔ایک ذمہ دار، مستحکم، مضبوط اور ہمہ وقت تیار ریاست۔

اگر بھارت نے ‘سندور ‘ جیسے کسی نئے بالی وُڈ زدہ منصوبے کے نام پر کسی مہم جوئی کی پھر کوشش کی تو اس کا انجام وہی ہوگا جو 2019 میں ہوا، جو 2025 میں ہوا اور جسے بھارت آج تک اگر قبول نہیں کر سکا تو بھولا بھی نہیں کہ اسکے حکمرانوں  اور فوجی جرنیلوں کا ایک ایک بیان، ایک ایک دھمکی ، ایک ایک عسکری و سفارتی سرگرمی اور اسکے میڈیا کی چیخ و پکار   بتارہی ہوتی ہے کہ انگ انگ میں اس شکست کی ٹیسیں  اسے کتنا  بے چین کئے ہوئے ہیں ۔ پاکستان ٹریلر نہیں بناتا، تاریخ لکھتا ہے۔ وہ فلمی ایکشن نہیں دکھاتا، حدود متعین کرتا ہےاور جب کوئی حد پار کرے تو  وہ جواب جذباتی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ، درست، متناسب اور فیصلہ کن انداز میں دیتا ہے۔

پاکستان تصادم کا خواہش مند نہیں مگر جہاں بات قومی سلامتی، وقار، سرحدی دفاع اور ریاستی وقار کی ہو،وہاں اس  کا جواب واضح، مضبوط اور دوٹوک ہوتا ہے۔ بھارت کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی جلسوں کے نعرے، میڈیا کا پروپیگنڈا، یا فوجی سربراہوں کے فلمی مکالمے جنگ کا نقشہ نہیں بدل سکتے۔ جنگ وہ جیتتا ہے جو پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط، اسٹریٹجک  حکمت اور حقیقی صلاحیت رکھتا ہو۔اور یہ چاروں عناصر پاکستان کے پاس ہیں، بھارت کے پاس نہیں۔

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button