بھارت

بھارت میں لوکیشن ٹریکنگ کی تجویز پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

نئی دہلی: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں مستقل فون لوکیشن ٹریکنگ کی تجویز پر شدید تشویش ظاہر کی ہے جس کے تحت حکومت قانونی نگرانی بہتر بنانے کے لیے تمام اسمارٹ فونز میں ہمیشہ فعال لوکیشن کے نفاذ پر غور کر رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنیوں نے رازداری کے خدشات کے باعث اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سیاست دانوں نے اسے انسانی حقوق اور نجی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس منصوبے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی ٹیلی کام انڈسٹری کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز پر غورکیا جارہا ہے جس کے تحت فون پر مستقل سیٹلائٹ لوکیشن ٹریکنگ کو قانونی نگرانی بہتر بنانے کے لیے لازمی قرار دیا جائے گا۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں اور کارکنوں کے حساس ڈیٹا کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت ٹیلی کام کمپنیوں سے عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ زیرِ تفتیش افراد کے زیادہ درست مقامات فراہم کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کو اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو حکم دینا ہوگا کہ وہ ہمیشہ فعال لوکیشن ٹریکنگ کو یقینی بنائیں۔ رائٹرز کے مطابق حکومت اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم، پرائیویسی اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عالمی اسمارٹ فون کمپنیاں جن میں ایپل، گوگل اور سیمسنگ شامل ہیں، اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاکہ یہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک ایسے دور میں جب نگرانی عالمی خطرہ بنتی جا رہی ہے، ریاستوں کو اپنی نگرانی کے طریقوں میں بہتری لانی چاہیے، نہ کہ شہریوں کو مزید حساس معلومات ظاہر کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ماضی میں بھی بھارت کے نگرانی کے نظام پر تشویش ظاہر کر چکی ہے جس میں صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف پیگاسس اسپائی ویئر کے استعمال کے الزامات شامل ہیں ۔ گزشتہ ہفتے بھارت میں پرائیویسی سے متعلق ایک نئی بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب رائٹرز نے انکشاف کیا کہ حکومت تمام اسمارٹ فونز پر ایک سرکاری سائبر سیفٹی ایپ پہلے سے انسٹال کرنے کی خفیہ ہدایت دے چکی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے لوکیشن ٹریکنگ کی نئی تجویز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہم بھارت کو سروییلنس اسٹیٹ میں کیوں تبدیل کر رہے ہیں؟

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button