بھارت

آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کیخلاف انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی ماہرین کی تشویش

لندن: بین الاقوامی ماہرین کے ایک آزاد پینل نے بھارتی ریاستوں آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر توجہ اور ممکنہ پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پینل آف اِنڈیپنڈنٹ اِنٹرنیشنل ایکسپرٹس کی جانب سے آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔2022سے 2025کے دوران دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی اقدامات، جبری بے دخلیوں، نفرت انگیز تقاریر اور سخت پولیس کارروائیوں کے متعدد واقعات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ رپورٹ رواں سال 31مارچ کوڈکسن پون اسکول آف لا، کنگز کالج لندن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جاری کی گئی، جس کا اہتمام ٹرانس نیشنل لیگل کلینک نے کیا تھا۔ماہرین کے پینل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عالمی اصولوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ میں ان اقدامات کو منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے موثر جوابدہی کا مطالبہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت کے دور میں مسلم مخالف واقعات اور سماجی دبائو میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ دونوں ریاستیں اکثریتی سیاست، امتیازی طرزِ حکمرانی اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ جبری بے دخلیوں، نفرت انگیز بیانات اور مخصوص کمیونٹی کے خلاف ریاستی کارروائیوں سے بھارت کی جمہوری اور کثیرالثقافتی شناخت متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات پر غور کرے۔بھارتی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں نئی دہلی ایسی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button