حجاب پابندی اور بھارتی سیکولرازم کا فریب
کے ایس کشمیری
بھارت میں حجاب کے معاملے پر جاری تنازع ایک بار پھر اس دعوے کو سوالیہ نشان بنا رہا ہے کہ ملک خود کو ایک سیکولر جمہوریت کہتا ہے۔ کرناٹک میں حجاب پر عائد پابندی کے خاتمے کی خبروں کے بعد ہندو شدت پسند حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والا ردِعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق آج بھی بھارت میں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
تعلیمی اداروں میں زعفرانی شالوں کو بطور سیاسی علامت استعمال کرتے ہوئے مسلم طالبات کے خلاف مہم چلانا محض ایک سماجی ردِعمل نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتا ہے جہاں مذہبی شناخت کو تنازع کا موضوع بنا دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرزِ عمل ان مسلم طالبات کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے جو اپنی مذہبی اقدار کے مطابق تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حجاب کے خلاف احتجاج اور اس پر پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی بھارت کے سیکولر تشخص کے دعووں کو کمزور کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک جمہوری معاشرہ شہریوں کے لباس اور مذہبی اظہار کے حق کو قبول نہ کر سکے تو یہ بنیادی آزادیوں کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
بھارتی اقلیتی حلقے اس صورتحال کو سرکاری سطح پر ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ قرار دے رھے ہیں ۔ ان کے مطابق اقلیتوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت اور ان کی شناخت کو متنازع بنانا ایک ایسے سیاسی رجحان کی علامت ہے جو جو اکثریتی بالادستیکو فروغ دیتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ریاست تعلیمی اداروں میں مذہبی بنیادوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو مؤثر انداز میں روکنے میں ناکام رہتی ہے تو اس سے اقلیتی برادریوں، خصوصاً خواتین، کے تحفظ اور تعلیمی مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً تعلیم کے مراکز علم و تربیت کے بجائے سیاسی اور مذہبی کشمکش کے میدان بن جاتے ہیں۔
حجاب تنازع ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا دنیا کی نام نہاد جمہوریت اپنے تمام شہریوں کو مساوی مذہبی آزادی اور شخصی انتخاب کا حق فراہم کرنے میں کامیاب ہو پائی ہے، یا پھر اقلیتوں کے حقوق اب بھی سیاسی تنازعات اور نظریاتی کشمکش کی نذر ہو رہے ہیں۔
حال ہی میں کشمیری رکنِ پارلیمان Aga Syed Ruhullah Mehdi نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت میں اوسطاً ہر چھ منٹ بعد ایک خاتون جنسی زیادتی شکار بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا یہ صرف وہ واقعات ہیں جو پولیس ریکارڈ، ایف آئی آرز یا میڈیا رپورٹس کا حصہ بن پاتے ہیں، جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایسی صورتحال مین دنیا میں کسی بھی مہذب اور ذمہ دار ریاست کی اصل ترجیح خواتین کو تحفظ فراہم کرنا، انہیں فوری انصاف دلانا اور تعلیم و ترقی کے یکساں مواقع مہیا کرنا ہونی چاہیے۔ تاہم بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد، ہراسانی اور دیگر سنگین جرائم کے مسلسل واقعات کے باوجود ریاستی اور سیاسی توجہ کا رخ اکثر طالبات کے لباس اور مذہبی شناخت کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔
یہ ایک تلخ تضاد ہے کہ جن بچیوں کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جانا چاہیے، ان کے حجاب، اسکارف اور مذہبی شناخت کو تنازع کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف مسلم طالبات بلکہ دیگر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی بچیوں میں بھی عدم تحفظ اور امتیازی سلوک کا احساس بڑھتا ہے۔
ریاست کی کامیابی کا پیمانہ شہریوں کے لباس پر نگرانی یا پابندیاں نہیں بلکہ خواتین کو تشدد، خوف اور امتیاز سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم ایک مستقل سماجی چیلنج بنا ھوا ھے اسلئے ترجیحات کا مرکز انصاف، تحفظ اور تعلیم ہونا چاہیے، نہ کہ شہریوں کے مذہبی یا شخصی انتخاب کو سیاسی اور سماجی تنازعات کی نذر کرنا۔






