
ارشد میر
پانچ اگست 2019 کا دن مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر درج ہو چکا ہے جس نے نہ صرف خطے کے سیاسی، آئینی اور سماجی منظرنامے کو بدل دیا بلکہ ایک دیرینہ تنازع کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ 2019 کی آئینی جارحیت کےسات برس اور مجموعی طور پر 79 برس گزرنے کے باوجود کشمیر کا مسئلہ ختم نہیں ہوابلکہ اس کی پیچیدگیاں مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف، پاکستان اور دنیا بھر میں کل کشمیریوں نے اس دن کو ’’یومِ استحصال کشمیر‘‘ کے طور پر مناتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ بھارت کی ستمگری کو بھولیں گے نہیں اور اس کے پنجہ استبداد سے آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس موقع پر مکمل پابندیاں عائد رہیں۔ بھارتی قابضین نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سرینگراور دیگر تمام ضلع صدر مقامات پر اضافی فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات کیے تھے۔ اہم شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں، گاڑیوں، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی جارہی تھی جبکہ کسی بھی عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے سکیورٹی کو ہائی الرٹ پہ رکھا گیا تھا۔
سرینگر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے احتجاج اور مشعل بردار جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم بھارتی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے اس موقع پر کہا کہ 5 اگست جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے اور دفعہ 370 کی منسوخی کشمیری عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی، آئینی حقوق کی بحالی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
آزاد کشمیر، پاکستان ، گلگت بلتستان اور دنیا کے کئی شہروں میں کشمیریوں اور پاکستانیوں نے مظاہرے، ریلیاں، سیمینار اور دیگر پروگرام منعقد کرکے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحالاور انسانی حقوق کے مسائل کی جانب مبذول کرانے کے علاوہ مقبوضہ علاقہ میں برسر مزاحمت اور جبر کی چکی میں پس رہے اپنے بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔
آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ دارالحکومت مظفرآباد میں ’’چلو آزادی کے لیے‘‘ کے عنوان سے مرکزی ریلی کا انعقاد کیا گیاجس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے سیاہ جھنڈے، پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم جبکہ احتجاجی بینرز اٹھا رکھے تھے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے بلند کیے۔
گلگت بلتستان میں بھی یومِ استحصال کشمیر مناتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اس سلسلے میں گلگت میں یکجہتی ریلی نکالی گئی جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا گیاجس میں 5 اگست 2019 کے اقدامات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔
اسلام آباد میں یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر نوجوانوں نے بھی اپنے جذبات کا اظہار فن کے ذریعے کیا۔ ملک بھر سے تقریباً 200 نوجوان فنکاروں نے فن پاروں کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال، انسانی حقوق کے مسائل اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے لیکن رنگوں کے ذریعے دیا گیا پیغام خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے نوجوان فنکاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے فن پاروں نے کشمیر کی کہانی کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
پاکستان بھر میں بھی یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم و محصور لوگوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ حکومت پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سات برس گزرنے کے باوجود یہ اقدامات نہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کر سکے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے عزم کو کمزور کر سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں ریاستی جبر، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں پر عالمی برادری کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ، غیر قانونی اقدامات واپس لینے اور ایسا ماحول پیدا کرنے پہ مجبور کرے جس میں کشمیری عوام اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ رائے کا اظہار کر سکیں۔
پاکستان کی مسلح افواج پاکستان نے بھی یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ خصوصی طور پریکجہتی کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کے لیے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی محاصرہ، انسانی حقوق کی صورتحال، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں اور اشتعال انگیز اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے باعث تشویش ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل سے ہی گزر سکتا ہے۔
5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے اپنے آئین کی دفعہ370 اور 35 اے کو ختم کر دیا تھاجن کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت حاصل تھی۔ ہندو فسطائی مودی حکومت نے اس اقدام کو قومی یکجہتی، انتظامی اصلاحات ، امن اور ترقی کے لیے ضروری قرار دیاتاہم کشمیری عوام اور متعدد مبصرین کے نزدیک یہ ایک ایسا یکطرفہ اقدام تھا جس نے جموں و کشمیر کے سیاسی معاہدے اور اس خطے کی متنازع حیثیت کو متاثر کیا۔ بلکہ خود بھارت پالیساں اور اعمال ننگے ہوکر بتاتے ہیں کہ اس جارحیت کے محرکات و مقاصد کیا ہیں؟
کشمیر کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع رہا ہے۔ 1948 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کا ذکر کیا گیا اور مسئلے کے پرامن حل پر زور دیا گیا۔ بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ آئینی تبدیلیاں اس کا داخلی معاملہ ہیں تاہم کوئی صاحب فہم و انصاف اس بے دلیل موقف کو تسلیم نہیں کرسکتا جو کسی تاریخی ، قانونی ، اخلاقی جواز سے عاری ہے۔کیونکہ یہ آئینی تبدیلی نہیں بلکہ ننگی آئینی جارحیت، جمہوریت کے لبادے میں آمرانہ اور فسطائی حملہ تھا جس کا ایک ایک پہلو بین الاقوامی وعدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور متنازع علاقوں سے متعلق عالمی اصولوں کے منافی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان نے درست نشاندہی کی ہے کہ سات برس بعد بھی یہ حقیقت خود کو واضح کرتی ہے کہ کسی ایک فریق کے اعلان سے کوئی دیرینہ تنازع ختم نہیں ہو جاتا۔ کشمیر کا سوال آج بھی موجود ہے اور خطے کے امن و استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ 2019 کے بعد کیے گئے متعدد قانونی اور انتظامی اقدامات ،جن میں شہریت، زمین کی ملکیت، سیاسی نمائندگی اور دیگر معاملات سے متعلق تبدیلیاں شامل ہیں، نے کشمیر کے مستقبل پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں، انٹرنیٹ کی بندشیں، میڈیا پر قدغنیں اور شہری آزادیوں سے متعلق مسائل مسلسل عالمی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں، قانونی ماہرین اور مختلف عالمی مبصرین نے طویل حراستوں، سیاسی پابندیوں، اظہار رائے پر قدغنوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں شفافیت، اختلاف رائے اور آزاد معلومات تک رسائی بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا محض انتظامی اقدامات کسی پیچیدہ سیاسی مسئلے کا مستقل حل فراہم کر سکتے ہیں؟ معلومات تک رسائی محدود کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔
کشمیر کا تنازع اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ دو ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان واقع ہے۔ خطے میں کسی بھی کشیدگی کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی امن و سلامتی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ماضی کے واقعات نے بارہا ثابت کیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی معاملہ نہیں بلکہ عالمی امن سے جڑا ہوا ایک حساس تنازع ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دیرینہ تنازعات وقت گزرنے سے خود بخود ختم نہیں ہوتے۔ اگر انہیں نظر انداز کیا جائے تو وہ مزید پیچیدہ، گہرے اور خطرناک ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے اصولی اور متوازن کردار ادا کرے۔
پائیدار امن طاقت، یکطرفہ فیصلوں یا محض سیاسی بیانات سے قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے مکالمہ، سیاسی عزم، انسانی وقار و حقوق کا احترام اور ایسا عمل درکار ہے جس میں ان لوگوں کی آواز بھی شامل ہو جن کا مستقبل اس تنازع سے براہ راست وابستہ ہے۔
بھارت کی طرف سے اپنے ناجائز قبضے کو قائم رکھنے اور اسکو کوئی مصنوعی سا جواز عطا کرنے کے 89 برسوں اور 2019 کی آئینی جارحیت کے سات برس بعد بھی یہ حقیقت نمایاں طور پر موجود ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض زمین کا تنازع نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف، سیاسی حقوق اور امن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ کوئی بھی دیرپا امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان لوگوں کی آواز کو اہمیت نہ دی جائے جن کا مستقبل اس تنازع سے براہ راست وابستہ ہے۔
کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے مگر کسی قوم کے احساسات، شناخت اور سیاسی امنگوں کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ امن کا راستہ پابندیوں، یکطرفہ اور فسطائی فیصلوں سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور انسانی حقوق کے احترام سے نکلتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکیں۔ کشمیری عوام دنیا سے ہمدردی نہیں بلکہ اصولی کردار، انصاف اور اپنے مستقبل سے متعلق آواز کے احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ صرف ان لوگوں کے بارے میں نہیں ہوگا جنہوں نے یہ ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات کیے بلکہ ان کے بارے میں بھی ہوگا جنہوں نے سب کچھ دیکھتے ہوئے خاموش رہنے کا انتخاب کیا۔ کشمیر کا سوال آج بھی دنیا کے ضمیر کو پکار رہا ہےاور اس پکار کا جواب انصاف، امن اور انسانی وقار کے اصولوں کے مطابق ہی دیا جا سکتا ہے۔








