اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر نئے آبی منصوبوں اور پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کے الزامات کے تناظر میں اپنے سخت موقف کا اعادہ کیا ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے رواں سال24اپریل کے اعلامیے کے بعد پاکستان نے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر تبدیلی یا معطلی کا اختیار حاصل نہیں۔ پانی پاکستان کی بقا اور کروڑوں افراد کی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اس کے بہائو میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تبدیلی کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔دوسری جانب بھارت کی طرف سے چناب بیسن میں مختلف ہائیڈرو اور لنک منصوبوں پر کام تیز کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں پانی کے ذخیرے اور رخ موڑنے سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔اسلام آباد کے مطابق بھارت کا مجوزہ چناب-بیاس لنک منصوبہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریا پاکستان کے غیر مشروط استعمال کے لیے مختص ہیں۔پاکستانی موقف کے مطابق اگر کسی منصوبے کے ذریعے بہائو میں کمی، رخ موڑنے یا ڈیٹا شیئرنگ میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق دریائے چناب اور دیگر مغربی دریا پاکستان کے زرعی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان پر انحصار کرنے والے علاقوں میں پانی کی دستیابی براہِ راست غذائی تحفظ اور معیشت سے جڑی ہے۔پاکستان نے اس صورتحال کے جواب میں اپنے اندرونی آبی نظام کو مضبوط بنانے، ذخائر میں اضافہ کرنے اور نئے ڈیمز و لنک کینال منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔حکام کے مطابق آئندہ برسوں میں پانی کے موثر استعمال، نہری نظام کی بہتری اور سیلابی پانی کے ذخیرے کو یقینی بنانے کے اقدامات کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ممکنہ دبا کا مثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں تمام قانونی اور سفارتی آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔






