سی جے پی کے احتجاج نے مودی کی عوامی ساکھ کو تباہ کردیا: اروندھتی رائے
نئی دہلی :عالمی شہرت یافتہ بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی زیر قیادت نوجوانوں کے احتجاج نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی دو دہائیوں سے زائد عرصے سے قائم کی گئی عوامی ساکھ کو صرف دو ہفتوں میں تباہ کر دیا اوریہ کسی بھی انتخابی شکست سے بڑا سیاسی دھچکہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اروندھتی رائے نے نئی دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (IIC) میں اپنی کتاب”مدر میری کمز ٹو می“کے ہندی ترجمے کی تقریب رونمائی کے موقع پر کہاکہ احتجاجی مظاہروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کے اجتماعی عمل سے کئی دہائیوں پر مشتمل بیانیے کو ہفتوں کے اندر ہلایا جا سکتا ہے۔حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے اروندھتی رائے نے کہا کہ ساکھ بنانے اور شخصیت کی پروجیکشن پر بڑے پیمانے پر خرچ کرنے کے باوجود پچھلے 24 سالوں میں مودی کاجو تاثر بنایاگیاتھا، وہ صرف دو ہفتوں میں تباہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک طرح سے انتخابات سے بھی بڑی فتح ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ حکومت نے اب بھی اہم اداروں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ جمہوری اداروں کے دفاع کے لیے مل کر کام کریں اور جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرین سے سبق سیکھیں۔ بکر پرائز جیتنے والی مصنفہ اروندھتی رائے نے جو ایک طویل عرصے سے مودی حکومت کی ناقدرہی ہیں، کہا کہ نوجوان مظاہرین نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ کام کیا ہے حالانکہ وہ ہر مسئلے پر ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے۔ ایک کامیاب مصنفہ ہونے کے سوال پراروندھتی رائے نے کہا کہ تشدد اور ناانصافی ہرطرف بلا روک ٹوک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحریر وںمیں ذاتی کامیابی کے بجائے مسلسل ناانصافی اور ظلم کا شکار لوگوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اپنے بچپن کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی پہچان انہیں ہمیشہ ان لوگوں کی یاد دلاتی ہے جن کی آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔ انہوںنے کہا کہ غزہ میں، کسی بس اسٹینڈ پر، گاو¿ں میں، جنتر منتر پرہرجگہ کسی نہ کسی کو مارا پیٹا جا رہا ہے اورمیں نے مسلسل ان لوگوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے جو عوام کی توجہ سے دور ہیں۔انہوں نے کہاکہ اب ذمہ داری شہریوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کریں۔اب ہمیں یہ دکھانا ہے کہ ہمیں مزید نہیں مارا جائے گا۔







