سی جے پی احتجاج کی عالمی حمایت کے بعد بھارت کی جمہوری ساکھ اورسافٹ پاور بیانیہ پر سوالات کھڑے
نئی دہلی: نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی زیر قیادت احتجاجی مظاہروں کی کئی ممالک میں بھارتی تارکین وطن، طلباءاور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بڑے پیمانے پر حمایت کی جس کے بعددنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے اور سافٹ پاورکے عالمی چیمپئن کے خودساختہ بھارتی بیانیے پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنتر منتر پر سی جے پی کا دھرنا 36 دن تک جاری رہا اور 25 جولائی کو بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعدجو مظاہرین کا ایک اہم مطالبہ تھا، ختم ہوا، ۔ یہ تحریک ”نیٹ “امتحان کے پیپر لیک ہونے کے بعد شروع ہوئی، مظاہرین نے جوابدہی اور بھارت کے امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔نئی دہلی میں شروع ہونے والا احتجاج جلد ہی پورے بھارت کے بڑے شہروں تک پھیل گیا جس میں طلبائ، نوجوانوں، والدین اور سول سوسائٹی کے گروپس نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بار بار امتحانی پیپر لیک ہونے، نوجوانوں کی بے روزگاری ، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے میں مودی حکومت کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا۔اس تحریک کو امریکہ، برطانیہ، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، جرمنی، ہالینڈ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی جہاں 24 سے 26 جولائی تک مظاہرے ہوئے۔ امریکہ میں نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، سان فرانسسکو، سان ہوزے، فریمونٹ اور ٹائمز اسکوائرسمیت بھارتی سفارتی مشنوں کے باہر اور عوامی مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں جنکو ہندوز فار ہیومن رائٹس اور دیگر جنوبی ایشیائی تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر”ایسے مستقبل کے لیے بھارت کے طلباءکے ساتھ کھڑے ہوجاﺅ جس پر وہ بھروسہ کر سکیں“اور”میں بھی کاکروچ“ہوں جیسے نعرے درج تھے۔
برطانیہ میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کی زیر قیادت لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر اور ٹریفلگر اسکوائر، آکسفورڈ، ناٹنگھم، مانچسٹر، ایڈنبرا اور گلاسگو سمیت مختلف مقامات پر مظاہرے کیے گئے جن میں بھارتی طلبہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔ٹریفلگر اسکوائر پرسویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی طلباءکی تحریک پرہم سب کو فخرہے جس نے انصاف، جمہوریت اور آزادی کے لیے وسیع تر جدوجہد کی نمائندگی کی۔اسی طرح کے مظاہرے ڈبلن، برلن، ٹورنٹو، وینکوور اور ہالینڈ کے کئی شہروں میں بھی ہوئے۔ہندوز فارہیومن رائٹس نے کہا کہ اس نے نیویارک اور سان ہوزے میں احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے میں مدد کی ہے، لندن اور ڈبلن میں کارکنوں کے ساتھ تعاون کیا اور دیگر جگہوں پر طلباءاور کمیونٹی گروپس کی طرف سے منظم کردی مہمات کی حمایت کی ہے۔
کئی مقامات پر مظاہرین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور اسرائیل کے ساتھ نئی دہلی کے قریبی اتحاد کی مذمت کی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مظاہروں نے بھارت میں گورننس، شہری آزادیوں اور جوابدہی کے فقدان پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی کرتے ہوئے بھارت کی جمہوری ساکھ پر سوالات اٹھائے۔ ناقدین کاکہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا ابتدائی ردعمل بامعنی مذاکرات کے بجائے جابرانہ اقدامات پر انحصار تھا اور مسلسل احتجاج اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی توجہ کے بعد ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی اسکینڈل پر کارروائی کا اعلان کیا جس کے بعد وزیر تعلیم کا استعفیٰ آیا۔انہوں نے کہا کہ ان پیش رفتوں نے بھارت کے جمہوری دعوﺅں اور اس کے طرز حکمرانی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بے نقاب کر دیا ہے جس سے نئی دہلی کی بین الاقوامی ساکھ کمزور ہوئی اور اس کے طویل عرصے سے تیارکردہ سافٹ پاور کے بیانیے کو نقصان پہنچا ۔







