بھارت : بی جے پی حکومت مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت مٹانے پر تلی ہوئی ہے

نئی دہلی :بھارت میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے اور وہ مسلسل ان کے تاریخی مذہبی مقامات کو نشانہ بنارہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی جریدے ”مسلم مرر“نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی(بنارس) میں واقع تقریباً ایک ہزار سال قدیم تاریخی مسجد گنجِ شہیداں کو مسمار کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 45 دنوں کے دوران 23 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور درگاہوں کو منہدم کیا جا چکا ہے جبکہ رواں سال مئی سے اب تک مسلمانوں کے کم از کم 20 مذہبی مقامات مسماری کی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں۔مسلم مرر کے مطابق ہندوتوا پالیسیوں کے تحت ایک ہزار سال قدیم مسجد سے لے کر دو سو سال پرانی درگاہ تک متعدد تاریخی مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اترپردیش کے شہر سنبھل میں واقع 600 سال پرانی ایک درگاہ کو عدالتی ریلیف نہ ملنے کے بعد منہدم کر دیا گیا۔دوسری جانب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے مسجد گنجِ شہیداں سے متعلق رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ادھر انسانی حقوق کی تنظیم جسٹس فار آل نے بھی بھارت میں مسلمانوں کے تاریخی مذہبی مقامات کی مسماری اور ان کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔







