بھارت

بھارت ہر سرحدی جرم کو پاکستان کے خلاف الزام تراشی اور سکھوں کو دبانے کے لئے استعمال کررہا ہے

نئی دہلی: بھارت اپنے ترن تارن منصوبے پر عمل کر تے ہوئے ہر سرحدی جرم کو پاکستان کے خلاف الزام تراشی اور سکھوں کو دبانے کے لئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کررہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امرتسر پولیس نے جون 2026 میں ایک افغان شہری سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کرنے اور 10 جدید ترین ہتھیار، 5 کلو سے زائد ہیروئن اور 30.38 لاکھ روپے کی منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ بیرون ملک مقیم ترن تارن کے ہیری سرپنچ پر پاکستان سے سمگلنگ چینلز کے ذریعے ایک نیٹ ورک چلانے کا الزام لگایاگیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام اس ضبطی کو پاکستان کے حمایت یافتہ نیٹ ورک کے ایک بڑے بیانیے میں تبدیل کررہے ہیں تاکہ اندرون ملک امن و امان کی ناکامی کو سلامتی کے لئے بیرونی خطرے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اس سے وہ پنجاب میں بدعنوانی، بے روزگاری، منشیات فروشوں اور پولیس کی ملی بھگت سے متعلق سوالات سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ترن تارن کو جو ایک سرحدی ضلع اورسکھوں کا ثقافتی مرکزہے اور1980-90 کی دہائی میں خالصتان تحریک کے دوران شدید متاثر ہوا، بار بار اس طرح کے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر اسمگلنگ یا ڈرون کی دراندازی کے دعوے کو سرحد پار سازش کے پروپیگنڈے میں ثبوت کے طورپر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ضلع کی جعلی مقابلوں، غیر قانونی میت سوزی اور تشدد کی تاریخ دہشت گردی کے نئے الزامات کو مشتبہ بناتی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کا اصل مقصد سرحدی تحفظ نہیں بلکہ سکھ کمیونٹی کو دبانا اور قومی سلامتی کے بیانیے کی آڑ میںریاستی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button