قابض حکام کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف کپواڑہ میں احتجاجی مظاہرہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع کپواڑہ کے علاقے لنگیٹ میں تاجروں کی حمایت سے صفائی ستھرائی کے کارکنوں نے قابض حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نوکریوں کو مستقل کرنے اور اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے کہا کہ وہ برسوںسے محکمے کی خدمت کررہے ہیں اور باقاعدہ ملازمین کو ملنے والے مراعات کے بغیر معمولی اجرت پر کام کررہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک محمد اکبر نے کہاکہ ہم شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے کئی دہائیوں سے انتھک محنت کر رہے ہیں لیکن ہماری نوکریوں کو باقاعدہ نہیں بنایا جا رہا ۔انہوں نے کہاکہ ہم انصاف اور ملازمت کے تحفظ کے مستحق ہیں۔ احتجاج کرنے والے ایک اور شخص بلال احمد نے کہا کہ 9,300 روپے ماہانہ تنخواہ موجودہ معاشی صورتحال میں ہمارے خاندان کی کفالت کے لیے کسی بھی طرح کافی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ مشکل حالات میں ضروری عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کچھ خاص نہیں مانگ رہے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہماری خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے تاکہ ہمارے خاندانوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔لنگیٹ ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر محمد لطیف بھی احتجاج میں شامل ہوئے اور صفائی کارکنوں کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہاکہ یہ لوگ گزشتہ دو دہائیوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔مظاہرین نے حکام پر زور دیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور ان کی خدمات کو باقاعدہ بنائیں۔







