مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت کا مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاحتی مقامات کی نگرانی مزید سخت کرنے کا منصوبہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام سیاحتی مقامات کی نگرانی اور فوجی کنٹرول مزید سخت کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایک بھارتی پارلیمانی پینل نے بڑے سیاحتی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور نگرانی کے مربوط نظام کی سفارش کی ہے۔ یہ سفارش محکمہ داخلہ سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 260ویں رپورٹ میں کی گئی جسے بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے اہم سیاحتی مقامات پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مئی 2026 میں مقبوضہ جموں وکشمیرکا دورہ کیا تھا۔پینل نے اہم سیاحتی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کے جامع اورمربوط نظام کے ساتھ ساتھ خطرات کے باقاعدہ جائزے اور وقتاً فوقتاً سیکیورٹی آڈٹ پر زوردیا۔کمیٹی نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سیاحت کا براہ راست تعلق صورتحال کے بارے میں لوگوں کے تاثرات سے ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ حفاظتی اقدامات میں کسی بھی کوتاہی سے سیاحت کے شعبے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔پینل نے کہا کہ روایتی سیکورٹی کو ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور مربوط نظام میں تبدیل کیا جائے۔ان سفارشات پر مقبوضہ علاقے میں پہلے سے موجود وسیع نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید وسعت دیے جانے کا امکان ہے، جہاں پہلے ہی بھارتی افواج اور ایجنسیاں بھاری تعداد میں موجود ہیں۔یہ اقدام مقبوضہ جموں وکشمیرمیں پہلے سے شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے جہاں لوگوں کو سیکورٹی کے نام پر اکثر ناکوں، تلاشیوں، نگرانی اور دیگر حفاظتی اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پارلیمانی پینل کی سفارشات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکام بنیادی سیاسی تنازعے کو حل کرنے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو بحال کرنے کے بجائے علاقے میں وسیع نگرانی کے ہتھکنڈوںپر انحصار کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button