پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون مسلم امہ کے اتحاد کی جانب اہم قدم ہے: غلام محمد صفی

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور جملہ حریت قیادت نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، باہمی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے عزم کا مظہر قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت قیادت نے ایک مشترکہ بیان میںکہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مسلم دنیا میں نمایاں مقام رکھنے والے ممالک ہیں، اس لیے ان کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون پورے خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ بیان میں کہاگیا کہ اس معاہدے سے تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دفاع، سلامتی اور باہمی تعاون کے شعبوں میں مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ بیان میں امید ظاہر کی گئی کہ اس اقدام سے مسلم ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور عملی تعاون کو بھی تقویت ملے گی۔ حریت قیادت نے کہاکہ مسلم ممالک کی دفاعی قوت اور باہمی تعاون کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی سلامتی اور خطے میں پائیدار امن کا تحفظ ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا کو اپنے باہمی مسائل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔حریت قیادت نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے خاتمے اور مظلوم اقوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلم ممالک کا مو¿ثر کردار ناگزیر ہے۔ بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے مسلم دنیا کی مشترکہ آواز کو مزید مو¿ثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مسلم ممالک باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مفادات، امن، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے متحد ہوں تو عالمی سطح پر ان کی آواز مزید طاقتور اور مو¿ثر ہو سکتی ہے۔ حریت قیادت نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت اور عوام کو اس اہم پیش رفت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امیدظاہر کی کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا اور پوری مسلم امہ کے لیے اتحاد، امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔






