مقبوضہ جموں و کشمیر

جموں :این آئی اے کی خصوصی عدالت کی طرف سے کشمیری خاتون کی ضمانت کی درخواست مسترد

جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں نئی دہلی کے زیر کنٹرول ین آئی اے کی جموں کی خصوصی عدالت نے جیل میں قید کشمیری خاتون کارکن اینشا جان المعرف اینشا طارق کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے عدالت نے بھارت مخالف سازش کے ایک من گھڑت مقدمے میں زیر سماعت اینشا جان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد بادی النظر میں ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔بی جے پی حکومت کے مقرر کردہ جج پریم ساگر نے ضمانت کی دخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ عدالت کے مطابق استغاثہ کی جانب سے پیش کیا گیا مواد مزید گواہوں کی شہادت سے تقویت کا متقاضی ہے۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے اینشا جان کو 2020میں جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا ان پر آرمز ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے اور ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ۔ اینشا جان نے طویل قید، مقدمے کی سماعت میں تاخیر اور طبی مسائل کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالتی حکم کے مطابق وہ چھ سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہیں جبکہ ان کے خلاف الزامات 10دسمبر 2022 کو عائد کیے گئے تھے۔
وکیل دفاع یوگیش بخشی نے موقف اختیار کیا کہ طویل حراست نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور وہ متعدد عارضوں میں مبتلا ہیں۔ این آئی اے نے درخواست ضمانت کی مخالفت کی۔
ادھرسرینگر میں مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے بارہمولہ کے رہائشی عابد پرویز حجام کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی نظربندی کو کالعدم قراردیتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ عابد پرویز حجام کو 2020میں آرمز ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور تین سال قید میں رہنے کے بعد 12مئی 2023کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں ضمانت دی تھی۔ بعد ازاں انہیں پی ایس اے کے تحت دوبارہ حراست میں لے لیا گیا، تاہم ہائی کورٹ نے 2مئی 2024 کو ان کی نظر بندی کالعدم قرار دی تھی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button