صدر آزاد کشمیرکی امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان پر کڑی تنقید
کشمیر کی متنازع حیثیت کسی سفارتی بیان سے تبدیل نہیں ہوسکتی

مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا اہم حصہ قرار دینے سے متعلق بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفیر کا بیان مقبوضہ علاقے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت اور مسئلہ کشمیر پر امریکہ کے تاریخی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق چوہدری لطیف اکبر نے ایک بیان میں سرینگر کے دورے کے دوران امریکی سفیر کے بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفیر کابیان کشمیری عوام کی سیاسی اور تاریخی امنگوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی متنازع علاقے کے ایک حصے پر کسی ملک کا انتظامی کنٹرول اس کی حتمی قانونی اور سیاسی حیثیت کا تعین یا اسے تبدیل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور متعدد قراردادوں میں کشمیری عوام کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ عمل کے ذریعے کرنے کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔
صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکا خود بھی مختلف مواقع پر مسئلہ کشمیر کو ایک تنازع تسلیم کرچکا ہے اور مذاکرات اور اس کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کسی سفارتی بیان سے تبدیل نہیں ہوسکتی۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بھارت یا پاکستان اکیلے نہیں کرسکتے بلکہ اس کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کو اپنے بنیادی حق خودارادیت کے استعمال کے ذریعے کرنا ہے۔انہوں نے امریکا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کسی ایک فریق کے بیانیے کو اپنانے کے بجائے بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے اصولوں کی پیروی کریں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس نے ایک بیان میں امریکی سفیر، نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے اور امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر کی حتمی حیثیت سے متعلق کوئی موقف اختیار کرنے سے قبل واشنگٹن کے سفارتی اور قانونی ریکارڈ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔تنظیم نے کہا کہ امریکا نے مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کے تعین کے لیے اقوام متحدہ کے عمل میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس میں امریکی ایڈمرل چیسٹر ڈبلیو نمٹز کی اقوام متحدہ کے استصواب رائے کے منتظم کے طور پر تقرری کی حمایت بھی شامل ہے۔جے کے سی ایچ آر نے امریکی محکمہ خارجہ کی 1951 کی پالیسی دستاویز کشمیر تنازع: مستقبل کا لائحہ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مہاراجہ کے بھارت سے الحاق کی قانونی حیثیت پر عالمی عدالت انصاف سے مشاورتی رائے لینے کے امکان پر بھی غور کیا گیا تھا۔






