عدالت نے قابض انتظامیہ کو شبیر شاہ کو غیر ضروری طورپر ہتھکڑیاں لگانے سے روک دیا

جموں:غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں کی ایک عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کو سینٹرل جیل کوٹ بھلوال سے ہسپتال یا عدالت لے جاتے وقت غیر ضروری طور پر ہتھکڑیاں نہ لگائیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے کی جموں کی خصوصی عدالت کے جج پریم ساگر نے یہ ہدایات 18اگست کو 74سالہ زیر سماعت قیدی شبیر احمد شاہ کی درخواست پر جاری کیں، جس میں انہوں نے صحت کے سنگین مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ہتھکڑی لگانے سے استثنیٰ کی استدعا کی تھی۔ چار صفحات پر مشتمل اپنے حکم نامے میں جج نے کہا کہ طبی رپورٹ کے مطابق ملزم کی عمر 74سال ہے اور وہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ حریت رہنماء کو جیل سے ہسپتال یا عدالت منتقل کرتے وقت جیل مینوئل کے مطابق قواعد پر عمل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں غیر ضروری طور پر ہتھکڑیاں نہ لگائی جائیں، جبکہ انکی حفاظت کے لیے مناسب تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں۔ شبیر احمد شاہ نے اپنی درخواست میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، سروائیکل اور لمبر اسپونڈلائٹس سمیت مختلف عارضوں کا حوالہ دیاتھا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ہتھکڑی لگانے سے انہیں شدید تکلیف ہوسکتی ہے اور ان کی صحت مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔شبیر احمد شاہ کو رواں سال اپریل میں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے 1996کے ایک جھوٹے مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔شبیر شاہ کو این آئی اے کے ایک اور مقدمے میں تقریبا سات سال قید میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہائی کے فورا بعد دوبارہ گرفتارکرلیاگیاتھا۔این آئی اے نے 10جولائی 2026 کو مذکورہ مقدمے میں چارج شیٹ دائر کی تھی، جس میں شبیر احمد شاہ کے علاوہ شکیل احمد بخشی اور جاوید احمد میر کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔





