بار بار فوجی جائزوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مستقبل کے عزائم پر سوالات اٹھا دیے ہیں: تجزیہ کار

جموں:بھارتی فوج کی طرف سے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سینئر کمانڈروں کے ذریعہ آپریشنل تیاریوں کے غیر معمولی طور پر بار بار جائزوں نے مقبوضہ علاقے میں نئی دہلی کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کے وائٹ نائٹ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے پیر کو پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ چوکیوں کا دورہ کیا اور بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ان کے ہمراہ جی او سی ایس آف اسپیڈز ڈویژن میجر جنرل منوج رارن بھی تھے۔ کمانڈر نے اہلکاروں سے ملاقات کی اور اعلیٰ آپریشنل تیاری برقرار رکھنے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے صلاحیتوں کو بڑھانے پر زور دیا۔یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب صرف ایک دن قبل ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پشپیندر سنگھ نے رائزنگ اسٹار کور کے ٹائیگر ڈویژن کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا تھا اور ابھرتے ہوئے ہنگامی حالات کا جواب دینے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا تھا۔ انہوں نے مسلسل جنگی تیاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔سینئر فوجی کمانڈروں کے پے در پے دورے، جن میں بار بار "آپریشنل تیاریوں”، "ابھرتے ہوئے ہنگامی حالات” اور "بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال” کا حوالہ دیا گیا،مقبوضہ علاقے میں فوجی کنٹرول بڑھانےکی نشاندہی کرتے ہیں اور اس تیاری کے پیچھے موجود مقاصد کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔پونچھ-راجوری پٹی بارہا بھارتی فوجی جائزوں کا مرکز رہی ہے۔ تازہ ترین پیش رفت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ فوج اس سال پہلے ہی اس علاقے کے کئی اعلیٰ سطح جائزے لے چکی ہے۔ جولائی میں، آرمی چیف جنرل دھیرج سیتھ نے پونچھ، راجوری اور سندربنی میں آگے کی چوکیوں کا دورہ کیا اور وائٹ نائٹ کور کی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیاتھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بار بار ہونے والے اعلیٰ سطح فوجی جائزے اور ابھرتے ہوئے خطرات پر زورسےسوالات اٹھتے ہیں کہ نئی دہلی کن ہنگامی حالات کا اندازہ لگا رہی ہے اور کیا یہ بڑھتی ہوئی تیاری مقبوضہ علاقے میں مستقبل کے فوجی یا اسٹریٹجک عزائم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہ پیش رفت بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال معمول کے مطابق ہونے کے دعووں میں تضاد کو بھی بے نقاب کرتی ہے، جہاں سینئر فوجی کمانڈر خاص طور پر اسٹریٹجک طور پر حساس بیرونی اضلاع میں بار بار آپریشنل جائزے اور سیکیورٹی جائزے لیتے رہتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر جاری فوجی کاری اور بڑھتے ہوئے اقدامات مقامی آبادی میں خوف اور غیر یقینی کا ماحول پیدا کر رہے ہیں، جبکہ تنازعہ کشمیر ابھی تک حل طلب ہے اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کاباعث ہے۔





