مسئلہ کشمیر سے متعلق امریکی سفیر کا بیان ناقابل فہم اور مضحکہ خیز ہے، نذیر احمد قریشی ا
اسلام آباد:
تحریک آزادی کشمیر کے رہنما اور کشمیر المسلمز کے چیئرمین نذیر احمد قریشی نے بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر سے متعلق حالیہ متنازعہ بیان کو ناقابل فہم اور مضحکہ خیز قراردیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نذیر احمد قریشی نے ایک بیان میں امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکی سفرا نہ صرف حالات واقعات سے متعلق بھرپور معلومات رکھتے ہیں بلکہ تاریخی حقائق سے بھی واقف ہوتے ہیں اور جب بات تنازعہ کشمیر کی ہو جو 79برس سے تصفیہ طلب اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہنوز عملدرآمد کی منتظر ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکہ جیسے ملک کا سفیر جموں وکشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا ان کی لاعلمی اور تاریخ سے نابلد ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔انہوں نے سرجیو گور کو مشورہ دیاکہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی نوعیت کا مطالعہ کریں تاکہ انہیں احساس ہو کہ انہوں نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے جو تاریخی ناانصافی کی ہے اس کا ازالہ ہوسکے۔ نذیر احمد قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جس سے خود بھارتی حکمران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیکر گئے تھے اوربھارت نے اقوام عالم کو گواہ ٹھہرا کر کشمیری عوام کو آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔تاہم انہوں نے کہاکہ 79برس گزرنے کے بعد بھارت اپنے وعدوں سے نہ صرف مکر گیا بلکہ کشمیری عوام جب بھی اپنے بنیادی حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان پر گولیاں برسائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ 1989سے لیکر اب تک ایک لاکھ کے قریب کشمیری بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، کھیت و کھلیان تباہ اور ہزاروں مائیں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و عصمت بھارتی درندے تار تار کرچکے ہیں۔ ان حالات میں انصاف کا تقاضا تھا کہ امریکی سفیر مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی دہشت گردی اور دس لاکھ سے زائد فوجیوں کی تعیناتی کی مذمت کرتے۔اس کے برعکس انہوںنے ایک ایسا متنازعہ بیان دیا جو کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند امر یہ ہے کہ آزادی پسند قیادت کیساتھ ساتھ بھارت نوازوں سیاست دانوں نے بھی امریکی سفیر کے بیان کو ناپسندیدہ اور مضحکہ خیز قرار دیکر مسترد کیا ہے۔ نذیر احمد قریشی نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ایک مسلمہ حقیقت ہے ، جس کی گواہی کنٹرول لائن کی دونوں جانب اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی موجودگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل کشمیر حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور جس میں اب تک لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔







