پاکستان

پاکستان نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کے متضاد دعوئوں کو مسترد کردیا

پاک بھارت جنگ سے متعلق بعد از وقت دعوے زمینی حقائق اور قابل تصدیق ریکارڈ کو تبدیل نہیں کر سکتے

اسلام آباد: کیرانہ ہلز سے متعلق بھارت کے سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کے متضاد اور بعد از وقت کئے گئے دعوئوں کو پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کو آپریشن سندور میں شرمناک شکست کے ڈیڑھ سال بعد اچانک یاد آیا ہے کہ ایک لوئٹرنگ میونیشن نے حادثاتی طور پر کیرانہ ہلز کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان نے واضح طورپر کہاہے کہ مئی 2025کی پاک بھارت جنگ سے متعلق بعد از وقت سامنے آنے والے بیانات زمینی حقائق اور اس وقت کے قابل تصدیق ریکارڈ کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ مئی 2025کے دوران پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے بھارتی فوجی اہداف کو موثر طور پر روکا جبکہ بعد میں کیے گئے پاکستانی جوابی اقدامات نے بھی اپنی عسکری صلاحیت کا لوہا منوایااورجنگ کے دوران کسی اسٹریٹجک اثاثے یا حساس بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا۔پاکستان کی طرف سے امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ اور فرانسیسی میڈیا کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مئی 2025کی جنگ میں رافیل سمیت بھارتی جنگی طیاروں مار گرایا گیا۔جس کی تصدیق امریکی صدر ٹرمپ اور فرانسیسی حکام نے کی ۔ امریکی کانگریس کی رپورٹ واضح طور پر بھارت کے خلاف پاکستان کی فوجی کامیابی کی توثیق کرتی ہے۔ فرانسیسی میڈیا رپورٹس نے بھی رافیل کی ناکامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ جوہری تنصیبات کے حوالے سے پاکستان کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی اداے آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہے کہ جنگ کے دوران نہ تو تابکاری کا اخراج ہوا اور نہ ہی پاکستان کی کسی جوہری تنصیب کو نقصان پہنچا۔ بھارت کے جھوٹ پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔پاکستان نے مزید موقف اختیار کیا کہ مئی 2025کی جنگ جنوبی ایشیا میں جوہری خطرات کے باعث انتہائی حساس نوعیت کا تھی اور پاکستان کے مطابق اس نے محتاط ردعمل اختیار کرتے ہوئے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کیا۔ بھارت نے امریکا سے مدد کی بھیک مانگی اور ٹرمپ نے جنگ بندی میں ثالثی کی۔ منتخب بیانیوں یا ڈرامائی ہالی ووڈ طرز کی پروڈکشنز کے ذریعے ان واقعات کو بعد از وقت نئے انداز میں پیش کرنے کی کوششیں مئی 2025 کے قابلِ تصدیق عملی ریکارڈ کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ ایسی کہانیاں پھیلا کر بھارت اپنے اندرونی مسائل چھپانے کی شدید کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکام اور سابق فوجی قیادت کی جانب سے جنگ کے دوران اور بعد میں مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ بھارتی کانگریس رہنما پون کھیڑا نے بھی انیل چوہان کے کیرانہ ہلز سے متعلق بیان کو پیلٹ گن کے استعمال کے سوال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ حالیہ تنازعات کو اس سوال سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کہ پیلٹ گنز کا حکم کس نے دیا تھا۔مبصرین کے مطابق تاریخ سیاسی بیانیوں یا بعد از وقت دعوئوں سے نہیں بلکہ قابلِ تصدیق حقائق اور شواہد سے مرتب ہوتی ہے اور حتمی نتیجے کے لیے آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق شواہد، سیٹلائٹ تصاویر اور مستند بین الاقوامی رپورٹس اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ انیل چوہان نے 25اگست 2026کو نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھاکہ بھارتی فوج نے سرگودھا کے اطراف ریڈار تلاش کرنے کے لیے متعدد لوئٹرنگ میونیشنز بھیجے تھے اور ممکن ہے کہ ان میں سے ایک اپنے ہدف کی تلاش میں ناکامی کے بعد کیرانہ ہلز کے کسی حصے پر جا گری ہو۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button