مقبوضہ جموں وکشمیر میں شدید سردی کی لہر،دراس میں درجہ حرارت منفی 24.6 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکو شدید سردی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اوروادی کشمیر اور لداخ کے خطے میں زیادہ ترعلاقوں کا درجہ حرارت نکتہ انجماد سے نیچے گرگیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی کشمیر میںسب سے زیادہ سردی شوپیان میں دیکھی گئی جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.2ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد پلوامہ میں منفی 8.0 اور پہلگام میں منفی 7.8ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔سرینگر شہر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.7ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرینگر ہوائی اڈے پر درجہ حرارت مزید کم ہو کر منفی 7.2ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ وادی کے دیگر علاقوںمیں بھی سخت سردی کی لہر جاری ہے، سوپور میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.6 ،اونتی پورہ اور اسلام آباد میں منفی 7.0 ، گلمرگ میں منفی 6.8 اور کپواڑہ اور بڈگام میں منفی 6.1 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔جموں خطے میں درجہ حرارت نسبتا بہتر ہے، تاہم پہاڑی علاقوں میںدرجہ حرارت نکتہ انجماد سے نیچے ریکارڈ کیاگیا ہے۔لداخ میں درجہ حرارت انتہائی نیچے گرگیا ہے اوردراس میں جو دنیا کا دوسرا سرد ترین آباد علاقہ ہے، کم از کم درجہ حرارت منفی 24.6ریکارڈ کیا گیا۔ نیوما میں منفی 20.3، پیڈم میںمنفی 19.6اور ہینلے میںمنفی 17.0ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈکیا گیا۔ لہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 14.4جبکہ کرگل میں منفی 13.7ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ سردی کی لہر اگلے چند دنوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔







