روس کی طرف سے پاکستان کو جدید انجنوں کی فراہمی مودی کی ناکام سفارت کاری کی عکاسی ہے: کانگریس

نئی دہلی: بھارت میںکانگریس پارٹی نے روس کی طرف سے پاکستان کو جدید RD-93MAانجن فراہم کرنے کے فیصلے پر نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک بڑا سفارتی دھچکا اور وزیر اعظم کی ذاتی سفارت کاری کی ناکامی قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکرٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ روس نے جو کبھی بھارت کا سب سے قابل اعتماد اسٹریٹجک اتحادی تھا ، نئی دہلی کے خدشات کو نظر انداز کیا ہے اور اسلام آباد کو اپ گریڈ انجنوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو مودی کی”گلے لگانے والی سفارت کاری”اور قومی مفاد کی قیمت پر اپنی عالمی ساکھ بنانے کے جنون کا براہ راست نتیجہ قرار دیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ روس جیسا دیرینہ اور قابل اعتماد پارٹنر اب پاکستان کو جدید فوجی سازوسامان کیوں فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ڈیل جس میں JF-17بلاک IIIجیٹ طیاروں کے لیے اپ گریڈ شدہ RD-93MAانجن شامل ہیں، رواں سال کے شروع میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی براہ راست مداخلت کے باوجود آگے بڑھ رہی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ JF-17ویریئنٹ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوںPL-15 سے بھی لیس ہوگا جو آپریشن سندور کے دوران استعمال کیا گیا تھا اور یہ بھارتی فضائیہ کے لیے نئے اسٹریٹجک چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے۔ یہاں تک کہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جے ایف 17 بھارت کے خلاف استعمال ہونے والے طیاروں میں شامل ہوسکتا ہے۔جے رام رمیش نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے ماسکو سےS-400ایئر ڈیفنس سسٹم اور Su-57اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں سمیت مسلسل ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات کے باوجود روس کا پاکستان کو مسلح کرنے کا اقدام مودی کی زیر قیادت بھارت کے کم ہوتے ہوئے سفارتی اثر ورسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے سے قاصر ہے اور اسلام آباد کو بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔جے رام رمیش نے کہاکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے عالمی رہنما ملاقاتیں کررہے ہیں ، روس اسلحہ فراہم کرتا ہے اور چین مکمل سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے۔یہ مودی کی نام نہاد مضبوط سفارت کاری کے مکمل خاتمے کو ظاہر کرتا ہے۔







