بھارتی جیلوں میں قید کشمیری بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا شکار
تحریر:- عبدالحمید لون
حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت بھارتی جیلوں میں سالہاسال سے جھوٹے مقدمات میں قید ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں کوعدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا ہے او وہ مقدمات چلائے بغیر جیلوں میں زندگی کے ایام گزار رہے ہیں ۔ان میں سے زیادہ تر نظر بند جرم بے گناہی کی سزا بھگت بھی چکے ہیں مگر ضمانتیں منظور نہیں کی جاتیں اور نہ ہی بھارتی عدالتیں کشمیری نظربندوں کی حالت زار کا نوٹس لینے کی زحمت گوراکرتی ہیں جو بھارت کی عدالتوں پر سوالیہ نشان ہے۔
جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید ان ہزاروں افراد میں کم عمر لڑکے اور سیاسی رہنما بھی شامل ہیں ۔ محمد اشرف صحرائی ہو یا غلام محمد بٹ یا الطاف فنتوش ہو بھارتی جیلوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اگرچہ ان کے لواحقین نے طبعی بنیادوں پر ان کی رہائی کی اپیلیں بھی کیں مگر انتہا پسند ہندوتوا حکمرانوں نے ان اپیلوں کو یکسر نظر انداز کیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر میں نافذ کالے قوانین کو کشمیری سیاسی رہنماں اور آبادی کے خلاف غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔کشمیری رہنماں کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی مسلسل اور غیر قانونی حراست پر بھی شدید تشویش ہے اور ان کی طویل قید دراصل نوآبادیاتی دور کا ایک ہتھکنڈا ہے جس کا مقصد حقیقت کو چھپانا اور سیاسی اختلاف کو دبانا اور کشمیری تحریک کو قیادت سے محروم کرنا ہے ۔
آسیہ اندرابی جو ایک عمر رسیدہ بزرگ خاتون ہیں کئی عوارض میں مبتلا ہیں،ان کیساتھ فہمیدہ صوفی ، ناہید نسرین سمیت متعدد دوسری کشمیری خواتین بھی تہاڑ جیل میں ہیں مگر نریندر مودی کا ظالمانہ رویہ اور ناروا سلوک جیلوں میں ہمارے سیاسی رہنماں اور کارکنوں کے حوصلوں کو نہیں توڑ سکتا ہے ۔
بیگناہی کی پاداش میں اپنے گھروں سے سینکڑوں میل دور بھارتی جیلوں میں ان نظربندوں کا اس کے سوا کوئی قصور اور جرم نہیں ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ اور ناجائز قبضے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ گزشتہ دنوں جنیوا میں موجود کشمیری وفد نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے جس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیر تنازع کے فوری حل اور بھارتی جیلوں میں پابند سلاسل سیاسی رہنماں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
جیلوںمیں نظر بندان حریت رہنمائوں کی قربانی ہرگزرائیگاں نہیںجائیگی۔ بھارت مسلسل نظربندی ، طبی و دیگربنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باوجود انکے حوصلے پست نہیںکرسکتا ہے ۔ بھاررت ان اسیر رہنمائوں کو مسئلہ کشمیرکے پرامن حل اور کشمیریوںکو حق خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہاہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم وجبر کے ہتھکنڈوں سے قوموں کے جذبہ آزادی کو ہرگز دبایانہیںجاسکتا۔وہ وقت دور نہیں جب کشمیریوں کی عظیم قربانیاںرنگ لائیں گی اورجموں وکشمیر بھارت کے ناجائز تسلط سے آزادہوگا۔







