بھارتی الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی کو مسلم مخالف اشتہار سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم
نئی دلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندوتوا جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسلمان مخالف، نفرت انگیز انتخابی اشتہاری مہم پر مخالفت کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں ریاستی انتخابات کے دوران حکمراں جماعت نے مسلم مخالف انتخابی اشتہاری مہم چلائی، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔بھارتی الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی کی اشتہاری مہم کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیئے جانے ے بعد ان اشتہارات کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن نے بی جے پی سے اس اقدام پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ اشتہار میں سر پر اسکارف اوڑھے خواتین، ٹوپی پہنے مردوں کو اپوزیشن کے حامی جھارکھنڈ مکتی مورچا کے رہنما کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس سے قبل نریندر مودی بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کو گھس بھیٹیا قرار دیتے ہوئے نفرت انگیز تقاریر کر چکے ہیں۔خیال رہے کہ جھاڑکھنڈ میں ریاستی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بدھ کو پولنگ ہوئی جس کے نتائج کا اعلان 23 نومبر کو کیا جائے گا۔








