
اسلام آباد: بھارت نے 6اور 7مئی کی درمیانی شب آپریشن سندور کے نام سے بلا اشتعال جارحیت کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف شہری علاقوں اور فضائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت متعدد شہری جاں بحق ہوئے۔بھارتی جارحیت کی وجہ سے جنوبی ایشیا ایک بار پھر خطرناک عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے 12مئی 2025 کو آپریشن بنیان مرصوص کے تحت ایک نپی تلی اور ذمہ دارانہ جوابی کارروائی کی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ احمد شریف چوہدری نے بعد ازاں ایک تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کے تحت بھارت کے اندر26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں مختلف فضائی اڈے،اسلحہ ڈپو اور دفاعی تنصیبات شامل تھیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایاکہ پاکستان نے سورت گڑھ، سرسا، آدم پور، بھوج، نالیا، بھٹنڈہ، پونچھ، برنالہ، ہروارہ، اونتی پورہ، سرینگر، جموں، مامون، امبالہ، ادھم پور اور پٹھان کوٹ کے فضائی اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا یا۔ فیاض، نگروٹہ اور بیاس میں براہموس میزائل ڈپو کو تباہ کیا گیا۔ دو مختلف مقامات پر S-400دفاعی نظام کو غیر موثر بنایا گیا۔ 84اسرائیلی ساختہ بھارتی ڈرونز مار گرانے کا بھی دعوی کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پاکستان کی کسی بھی خودمختاری کی خلاف ورزی پر ہمارا جواب فیصلہ کن اور بھرپور ہوگا۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو شہریوں پر بھارتی جارحیت کا منصفانہ جواب قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھارتی پائلٹ پاکستان کی تحویل میں نہیں ہے۔ جنگ بندی بھارت کی درخواست پر امریکی تعاون سے ہوئی۔ انہوں نے کشمیر کو بنیادی تنازع قرار دیا جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے چھ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور جدید فضائی دفاعی نظام S-400کو غیر موثر بنایا۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی شاہینوں نے صرف بھارتی طیارے ہی نہیں گرائے بلکہ اربوں ڈالر مارلیت کے رافیل طیارے کو تباہ کر کے مودی کے غرور کو بھی چکنا چور کر دیا۔آدم پور میں مودی کی تقریر، جس میں انہوں نے بھارتی فوج کی فتح کا دعوی کیا، زمینی حقائق سے متصادم نظر آتی ہے۔ بھارت نے صرف چار دنوں میں چھ جدید طیارے کھو دیے جن میں اربوں ڈالر مالیت کے تین رافیل طیارے بھی شامل تھے، جبکہ اس دوران اس کی اسٹاک مارکیٹ سے 86ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ترجمان آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور اپنی خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔بھارت کے خلاف جوابی کارروائی مکمل منصوبہ بندی اور محدود دائرہ کار میں کی گئی تاکہ کشیدگی کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔بین الاقوامی ماہرین نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اورکامیابی کے بھارتی دعوئوں کو مسترد کیا۔سی این این ،بی بی سی، الجزیرہ، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، لی مونڈ، لی فگارو، شہنوا، گلوبل ٹائمز اور اناطولو نیوزایجنسی نے پاکستان کی فضائی برتری، الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں اور جے ایف17طیاروں کی کارکردگی کو اجاگر کیا۔ جینز ڈیفنس،آئی آئی ایس ایس،سی ایس آئی ایس ،ایس آئی پی آر آئی اورآر یو ایس آئی جیسے بین الاقوا،می اداروں نے بھی پاکستان کی فتح کے مختلف پہلوئوں پر تجزیہ پیش کیا۔ بعض اطلاعات میں پاکستان کی فضائی اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کا ذکر کیا گیا، جبکہ بھارت کے جنگی بیانیے پر بھی تنقیدی تبصرے سامنے آئے۔
ادھر پاکستان نے سائبر محاذ پر بھی بھارت کے مختلف نظاموں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں توانائی، ریلوے اور سرکاری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر شامل تھے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کسی بھی محدود عسکری تنازع کے وسیع تصادم میں تبدیل ہونے کے خطرات موجود ہیں، اس لیے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان مذاکرات اور اعتماد سازی ناگزیر ہیں۔






