مقبوضہ جموں و کشمیر میں معذور افراد سڑکوں پر، حکومتی بے حسی کیخلاف آواز بلند

جموں: غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں معذور افراد نے اپنے دیرینہ مطالبات کی منظوری کے لیے جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور قابض انتظامیہ کی مسلسل بے توجہی کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور معذور افراد کو درپیش سماجی و معاشی مسائل کو اجاگر کیا۔ مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کے لیے سماجی تحفظ، مالی معاونت اور قانونی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔مظاہرے میں شریک جاوید احمد ٹاک نے کہا کہ معذور افراد کو محض ایک ہزار دو سو پچاس روپے ماہانہ پنشن دی جا رہی ہے جو موجودہ مہنگائی کے دور میں ناکافی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں بے پناہ اضافے اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے معذور افراد کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلسل حکومتیں معذور افراد کے لیے مختص سہولیات جیسے راشن کارڈ، پانی اور بجلی کے بلوں میں چھوٹ پر عملدرآمد میں ناکام رہی ہیں۔جاوید احمد ٹاک نے کہا کہ معذور افراد نے متعدد بار ریاستی وزیر اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر کو تحریری طور پر آگاہ کیا، مگر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ معذور افراد کی آواز سنے اور انہیں باوقار زندگی گزارنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔






