شب قدر کے موقع پر جامع مسجد سرینگر کی بندش اور میرواعظ عمر فاروق کی نظر بندی قابلِ مذمت ہے : غلام محمد صفی

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ کی جانب سے شب قدر جیسی عظیم اور مقدس رات کے موقع پر تاریخی جامع مسجد سرینگر مسجد کو مقفل کرنے اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند رکھنے شدید میں مذمت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام محمد صفی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں قابض انتظامیہ اس کے اقدام کو کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق میں کھلی مداخلت اور بنیادی انسانی آزادیوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ شب قدر اسلامی تقویم کی وہ بابرکت اور مقدس رات ہے جس کی فضیلت قرآنِ مجید میں ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ اس رات پوری دنیا میں مسلمان انتہائی عقیدت، خشوع و خضوع اور روحانی وابستگی کے ساتھ مساجد میں جمع ہو کر عبادت، ذکر و اذکار اور خصوصی دعائوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ایک بار پھر طاقت کے بل پر کشمیری مسلمانوں کو ان کے بنیادی مذہبی حق سے محروم کرتے ہوئے سرینگر کی تاریخی اور مرکزی جامع مسجد کو بند کر دیا اور میرواعظ عمر فاروق کو ان کے گھر میں نظر بند رکھا، تاکہ وہ اس بابرکت موقع پرکشمیری عوام کی امامت اور رہنمائی نہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف مذہبی آزادی کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں معمولاتِ زندگی کے معمول پر آنے کے بھارتی دعوے محض ایک فریب اور پروپیگنڈا ہیں۔ اگر واقعی حالات معمول کے مطابق ہوتے تو کشمیری مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے سے کیوں روکا جاتا اور ان کی سب سے بڑی عبادت گاہ کو کیوں مقفل کیا جاتا۔غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارتی حکام کا یہ طرزِ عمل دراصل کشمیری عوام کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق کو دبانے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت نہ صرف سیاسی قیادت کو نظر بند کیا جا رہا ہے بلکہ مذہبی اداروں اور عبادت گاہوں کو بھی پابندیوں اور قدغنوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام اپنے مذہبی تشخص اور بنیادی حقوق پر اس نوعیت کی قدغنوں کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔انہوں نے بھارت پر زوردیاکہ وہ کشمیری عوام کے مذہبی اور شہری حقوق کا احترام کرے اور مساجد سمیت تمام مذہبی مقامات پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے۔غلام محمد صفی نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور انصاف پسند اقوام سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کوبھارتی جبر و استبدادسے نجات دلائیں ۔







