بھارت

بھارتی فوج میں ہندو قوم پرستی کا غلبہ ، فوج مودی کی سینا میں تبدیل

فوج مودی کے سیاسی ایجنڈے کا ایک لازمی جزو بن گئی

اسلام آباد:ہندو انتہا پسند تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت بھارت میں فوج اب صرف ایک فوجی ادارہ نہیں بلکہ نریندر مودی کے سیاسی ایجنڈے کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس مطابق بھارت افواج پر ہندوتوا کے اثرات میں تیزی سے اضافے نے باعث فوج کے غیر جانبدار اور سیکولر کردار کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اسے ایک سیاسی اور مذہبی ادارے میں تبدیل کر دیا ہے ۔ان تبدیلیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی مسلح افواج اب "مودی کی سینا” بن چکی ہیں، جہاں ہندو قوم پرستی کا غلبہ ہے اور اس کی پیشہ ورانہ سالمیت اور غیر جانبداری شدید خطرات کا شکار ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی ایجنڈے کی تائید کرتے ہوئے بھارتی فوج نے اپنی شناخت میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔جن میں سیاسی بیانات دینا، ہندو مذہبی رسومات میں حصہ لینا اور سیاسی اشرافیہ کی خوشنودی کاحصول، فوج کی غیرجانبداری اور سیکولر تشخص کو خطرے میں ڈالنے والے دیگر اقدامات شامل ہیں۔ متعدد واقعات اورپالیسی فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوج نے اپنے سیکولر فلسفے کو ترک کر کے ہندو قوم پرست نظریات، سیاسی مداخلت اور اقلیتوں کے خلاف امتیاز پر عمل پیرا ہے ۔جنوری 2025 میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ساتھ بلاک میں آرمی چیف کے لانج میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی ۔جہاں 1971کی جنگ کی تاریخی تصویر کو ہٹا کر "کرم کشترا” کی تصویر آویزاں کی گئی، جس میں ہندو دیوی دیوتائوں جیسے کرشن اور چانکیا کو جدید فوجی ساز و سامان کے ساتھ دکھایا گیا۔اس اقدام سے واضح ہوتاہے کہ بھارتی فوج کی سیکولر روایت کو پس پشت ڈال کر ہندو مذہبی ثقافت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔گزشتہ سال دسمبرمیں فوج کی فائیر اینڈ فیوری کور نے لداخ کے حساس علاقے پانگونگ تسو میں 17ویں صدی کے ہندو بادشاہ شیواجی کی مورتی نصب کی ، جس کے ساتھ ایک سنہری پرچم بھی لہرایا گیا، جس سے فوج کی ہندو شناخت کو تقویت دینے کی کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے ۔بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے مذہبی رسومات میں حصہ لینے کا عمل بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ رواں سال قومی یگانگت دن کے موقع پربھارتی آرمی چیف نے عوامی طور پر ہندو مذہبی رسومات میں حصہ لیا اور ہندوپجاریوں سے تِیلک اور ہار وصول کیے۔بھارتی آرمی چیف کے اس عمل نے فوج کی غیرجانبداری اور سیکولر تشخص پر سوال اٹھا دئے ہیں۔25 مئی 2025 میں آرمی چیف نے ریاست مدھیہ پردیش میں ہندو مذہبی رہنما جگدگرو رامبھدر آچاریہ کے آشرم کا دورہ کیا ۔ جگدگرو رامبھدر آچاریہ نے اس موقع پر آرمی چیف کو دکشا میں آزاد جموں و کشمیر واپس لینے کا کہا۔ اس واقعے سے آرمی چیف نے خو دکو ایک اعلیٰ فوجی افسر کی بجائے ایک مذہبی شاگرد کے طور پر پیش کیا۔یہ واقعہ فوجی ذمہ داری اور مذہب کے درمیان حدوں کو مٹا نے کی ایک مثال ہے۔بھارتی فوج نے خود کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کیلئے اپنے آپریشنز کے نام بھی تبدیل کر دیے ہیں،فوجی کارروائیوں کے ناموں کیلئے ہندو مذہبی اصطلاحات کا استعمال کیاجارہا ہے۔ مثال کے طور پر آپریشن "سندوراورمہا دیو” جیسے ناموں کا انتخاب، جو کہ ہندو مذہب کے اہم ترین علامات سے جڑے ہیں۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ فوج میں نظریاتی اور سیاسی برانڈنگ کی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ 2022کی اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھارتی فوج میں ہندو قوم پرست نیٹ ورک جیسے آر ایس ایس کے ہزاروں کارکنوں کو بھرتی کی جارہاہے۔سینیک اسکولز بھی ، جو مستقبل کے افسروں کی تربیت کے لیے اہم ہیں، ہندو قوم پرست گروپوں جیسے ودیا بھارتی اور رام مندر تحریک سے متاثر ہو رہے ہیں اور فوجی قیادت میں زعفرانی نظریات کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔بھارتی فوج میںاقلیتی افسران، بشمول سکھ، مسلمان اور مسیحیوں پر ہندو مذہبی رسومات میں حصہ لینے کا دبائو اورامتیازی سلوک کی شکایات بڑھ گئی ہیں۔ ایک حالیہ واقعے میںفوج کے ایک مسیحی افسر لیفٹیننٹ سیموئیل کمالیسن کوہندو توارسومات میں حصہ نہ لینے پر برخاست کر دیا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی بھارتی فوج کے اس جانبدارفیصلے کو برقرار رکھاہے ، جس سے فوج میں اقلیتی افسران کوایک نئے چیلنج کا سامنا ہے ۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی 2025کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فوجی حراست میں 520سے زائد افرادکو ہلاک کیاگیاہے ۔ جن میں سے کچھ ان نظریاتی تبدیلیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔بھارتی افواج کی ہندوتوانظریات کے ساتھ ہم آہنگی سے واضح ہوتا ہے کہ فوج اب صرف ایک فوجی ادارہ نہیں بلکہ نریندر مودی کے سیاسی ایجنڈے کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ بھارتی مسلح افواج اب "مودی کی سینا” بن چکی ہیں، جہاں ہندو قوم پرستی کا غلبہ ہے اور اس کی پیشہ ورانہ سالمیت اور غیر جانبداری شدید خطرات کا شکار ہو چکی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button