بھارتی سپریم کورٹ میں سونم وانگچک کی غیر قانونی نظربندی کے خلاف دائر درخواست پرسماعت
سپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت 7 جنوری تک ملتوی کر دی

نئی دلی:
بھارتی سپریم کورٹ نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت نظربندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت آئندہ سال 7جنوری تک ملتوی کر دی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل سپریم کورٹ بنچ نے وقت کی کمی کے درخواست پر سماعت موخر کر دیا۔ سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے اپنے شوہر کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی ۔ اس سے قبل 24نومبر کوسپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت کے دوران کارکن سونم وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتاری کو "غیر قانونی او بنیادی حقوق خلاف ورزی "قراردیاتھا۔سالیسٹر جنرل تشار مہتاکی طرف سے اپنا جواب دائر کرنے کیلئے مہلت کی درخواست کی تھی جس پر عدالت عظمی نے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی تھی ۔29اکتوبر کوسپریم کورٹ نے گیتانجلی جے انگمو کی طرف سے دائر درخواست پر انتظامیہ سے جواب طلب کیا تھا۔سونم وانگچک کی اہلیہ نے درخواست میں موقف اختیار کیاہے کہ سونم وانگچک کی نظر بندی کے حکم کی بنیاد ایک پرانی ایف آئی آراورقیاس آرائی پر مبنی مبہم الزامات ہیں ،جن سے انکے شوہر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ درخواست میں مزیدکہا گیا کہ یہ مکمل طور پر مضحکہ خیزبات ہے کہ وانگچک کو اچانک قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیاگیاہے جبکہ لداخ اور پورے بھارت اوربین الاقوامی سطح پر تعلیم، جدت اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے انکی خدمات کا اعتراف کیا جاچکاہے ۔





