پاکستان کی شبیر شاہ کی تین دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں دوبارہ گرفتاری پر اظہار تشویش

اسلام آباد:پاکستان نے سینئر کشمیری حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی تین دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں دوبارہ گرفتاری اوران کی غیر قانونی نظربندی کو طول دینے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کہا کہ شبیر شاہ مسلسل سات سال تک جھوٹے الزامات کے تحت جیل میں نظر بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں اور جیل میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی صحت تیزی سے گر رہی ہے ۔ترجمان نے بھارت سے شبیر شاہ سمیت جھوٹے الزامات کے تحت غیر قانونی طورپر نظربند دیگر کشمیری حریت رہنمائوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی جھوٹے مقدمے میں2019سے مسلسل نظربندی اور منصفانہ ٹرائل سے بھارت کے انکار پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ترجمان دفترخارجہ نے بھارتی عدالتی نظام پر کڑی تنقید کی جو اسیمانند اور کرنل سے بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی پانے والے پروہت جیسے دہشت گردوں کو تو ریلیف فراہم کرتاہے تاہم شبیر شاہ جیسے کشمیری سیاسی رہنمائوں کی غیرقانونی نظربندی کو مسلسل طول دے رہا ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے اور دیگر سیاسی نظربندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اختلافی آوازوں کے ساتھ شبیر احمد شاہ کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون”یو اے پی اے” کے تحت جامعہ سراج العلوم پر پابندی اور اسے سیل کرنے کی غیر قانونی کارروائی کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ سراج العلوم نے نامور ڈاکٹرز اور پیشہ ور افراد پیدا کیے ہیں جنہوں نے معاشرے کی خدمت کی ہے۔







