مقبوضہ جموں وکشمیر کی اسمبلی میں نامزدگی کا تنازعہ سنگین رخ اختیارکرگیا
سیاسی جماعتیں اسے جمہوریت پر حملہ قرار دے رہی ہیں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی کے پانچ ارکان کی نامزدگی کے معاملے نے اس وقت سنگین رخ اختیارکرلیا جب بھارتی وزارت داخلہ نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنرکو حکومت کی مدد اور مشورے کے بغیر اسمبلی میں پانچ ارکان کو نامزد کرنے کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزارت داخلہ نے یہ حلف نامہ کانگریس کے رہنما رویندر کمار شرما کی درخواست کے جواب میں داخل کیا جس پر سیاسی جماعتوں کا سخت ردعمل سامنے آیاہے۔سیاسی جماعتوں نے اسے کشمیریوں کو بے اختیار کرنے کی ایک اورکوشش قراردیا جس کا مقصد مسلم اکثریتی علاقے میں جمہوری نمائندگی کو کمزور کرنا ہے۔بھارتی وزارت داخلہ نے بتایاکہ نامزدگی ایک قانونی عمل ہے نہ کہ انتظامی، جس کے لیے وزارتی مشورے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ دہلی اور پانڈی چیری میں بھی یہی طریقہ کار اختیارکیاجارہا ہے۔تاہم درخواست گزارنے جس کی نمائندگی سینئر وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے کی، دلیل دی کہ اس طرح کی نامزدگی انتخابی نتائج کو مسخ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرمنتخب لیفٹننٹ گورنر کو منتخب وزرا ء کونسل کو نظرانداز کرنے کی اجازت دینا پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد پر حملہ ہے۔حلف نامے پر مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سیاسی رہنمائوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اسے جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اور کسی بھی جگہ نئی دہلی عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنے کے لیے قانون سازوں کو منتخب نہیں کرتی۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے اسے عوامی مینڈیٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے خبردارکیا کہ منتخب اکثریت کو نظرانداز کرکے لیفٹننٹ گورنر کو ارکان مقرر کرنے کا اختیاردینا ایک خطرناک مثال ہے۔ سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ اقدام جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی واضح کوشش ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈر رویندر کمار شرما کو منتخب حکومت کی مدد اور مشورے کے بغیر مقبوضہ جموں وکشمیر کی اسمبلی میں پانچ ارکان کی تقرری کے لیفٹننٹ گورنر کے اختیار سے متعلق وزارت داخلہ کے حلف نامے پر جواب داخل کرنے کی مہلت د یتے ہوئے اگلی سماعت 26ستمبر کو مقرر کی ۔فی الحال اسمبلی کے 90 منتخب اراکین ہیں لیکن پانچ نامزد اراکین کے ساتھ تعداد بڑھ کر 95ہو جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کو خدشہ ہے کہ اس سے طاقت کے توازن میں تبدیلی آسکتی ہے، خاص طور پر راجیہ سبھا کی نمائندگی میںجس کے لئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی اسمبلی چار ارکان کا انتخاب کرتی ہے۔ نیشنل ،کانگریس اتحاد کے پاس فی الحال اکثریت ہے لیکن گورنرکے نامزد امیدواروں سے بی جے پی ممکنہ طور پر اپنی تعداد ایک سے دو سیٹوں تک بڑھا سکتی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ نامزدگی کا تنازعہ، 2019میں دفعہ 370کی منسوخی، حد بندیاں اور نشستوں کی ریزرویشن یہ سب ایک بڑی سازش کا حصہ ہیں اوریہ سب کچھ خطے کے جمہوری ڈھانچے کو ختم کرنے اور نئی دہلی کے حق میں نتائج برآمدکرانے کے لیے کیا جارہا ہے۔مبصرین نے نامزدگی کے تنازعہ کو راجیہ سبھا میں پارلیمانی نمائندگی سے بھی جوڑاہے۔ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی اسمبلی بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے چار ارکان کا انتخاب کرتی ہے اور موجودہ نیشنل ۔کانگریس اتحاد 90رکنی اسمبلی میں 50سے زائد نشستوں پر قابض ہے اوراس کے پاس اکثریت موجود ہے۔ تاہم ایل جی کے نامزد کردہ پانچ ارکان کی شمولیت سے بی جے پی ممکنہ طور پر راجیہ سبھا کی ایک اضافی نشست لے سکتی ہے جس سے اس کی تعداد ایک سے بڑھ کر دو ہو جائے گی۔ فروری 2021کے بعد سے مقبوضہ جموں وکشمیرسے راجیہ سبھا کا کوئی رکن منتخب نہیں ہوا ہے اور نامزدارکان اس انتخاب میںا ہم کردارادا کرسکتے ہیں۔






