2025: کشمیریوں کی مظلومیت، پاکستان کی فتح و عالمی پذیرائی، بھارت کی ناکامیوں،رسوائیوں کا سال ثابت

ارشد میر
سال2025 جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم باب کے طور پر رقم ہوکر رخصت ہورہا ہے۔ہنگامہ خیزی سے بھرپور یہ سال کشمیریوں کے لئے جہاں سابقہ سالوں کی طرح ہی ظلم و ستم، کریک ڈاؤنز، فرضی جھڑپوں، نسل کشی ، محاصروں، گرفتاریوں، زمین و جائیداد سے بے دخلی، نوکریوں سے برخواستگیوں ، کالے قوانین کے اطلاق، شہری آزادیوں پر قدغنوں اور پہلگام جیسے فالس فیگا آپریشنز کی وجہ سے بھارتی عتاب کا نشانہ بننے کا سال رہا وہیں پاکستان کے لیے عسکری، سفارتی، سیاسی اور معاشی سطح پر غیر معمولی کامیابیوں، عالمی پذیرائی اور اسٹریٹیجک برتری کا سال بن کر ابھرا۔ اس کے برعکس بھارت کے لیے 2025 ناکامیوں، عالمی رسوائی، داخلی انتشار اور خارجہ محاذ پر شدید سبکی کا سال ثابت ہوا۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سال 2025 تقریباً ہر دن ریاستی جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہری آزادیوں پر منظم حملوں کے ساتھ گزرا۔ ایسا شاید ہی کوئی دن ہو جب کشمیری عوام کو فوجی ناکہ بندیوں، گھروں پر چھاپوں، کرفیو نما پابندیوں، انٹرنیٹ بندش، وی پی این پر پابندی، سیاسی سرگرمیوں کی ممانعت اور آزادانہ اظہارِ رائے پر قدغنوں کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔
بھارتی فوج، پیراملٹری اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں نے مقبوضہ خطے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا۔ نقل و حرکت، تعلیمی سرگرمیاں، صحافتی فرائض، حتیٰ کہ مذہبی اجتماعات بھی سخت نگرانی اور خوف کے ماحول میں محدود ہو کر رہ گئے۔ شہریوں کو محض شبہ کی بنیاد پر گرفتار کرنا، کالے قوانین جیسے یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کرنا معمول بن گیا۔
سال بھر میں کئی واقعات پیش آئے جن میں سب سے نمایاں واقع پہلگام کا تھا جہاں ایک سیاحتی مقام پر مبینہ دہشت گردوں نے ایک کشمیری میزبان سمیت کئی سیاحوں کو قتل کیا۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے اپنی روایات کے مطابق بغیر تحقیقات کے پاکستان پر الزامات دھر لئے۔ اس واقع نے اپنے رونما ہونے کے ساتھ ہی کئی ایسے سوالات اٹھائے۔ جو بھارت کے خلاف جاتے تھے مگر بھارتی حکومت نے ان کا جواب دینے کے بجائے اس واقع کو بہانہ یا بنیاد بناکر آزاد کشمیر اور پاکستان میں کئی مقامات پر مساجد اور گھروں کو میزائلوں سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں 40 کے قریب لوگ شہید ہوئے جن میں بیشتر بچے اور عورتیں تھیں۔ یہ کھلی جارحیت بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی تھی۔
اس کے جواب میں پاکستان نے نہایت منظم مگر دندان شکن جواب دیتے ہوئے بھارت کے 7 جنگی جہازوں کو مار گرانے کے علاوہ 26 مقامات پر اسکےدفاعی نظام، فضائی اڈوں اور دیگر فوجی تنصیبات کو تباہ اور اسکے مواصلاتی نظام کو جام کر کے اس کی جنگی صلاحیت کو مفلوج کیا۔یہ جنگ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ لڑی جانے والی اپنی نوعیت کی ایک منفرد جنگ تھی جس میں سرحدیں عبور نہ کی گئیں بلکہ فریقین نے ای دوسرے کو سینکڑوں میل دور سے نشانہ بنایا۔6 مئی کی فضائی جھڑپ اور جدید رفال سمیت 7 طیاروں کے کھونے کے بعدبھارتی طیارے ہینگرز میں بند ہو گئے اور بھارت کو فضائی برتری کے اپنے تمام دعوؤں سے دستبردار ہونا پڑا۔ یہ شکست بھارت کے اس دیرینہ زعم کو توڑنے کے لیے کافی تھی کہ وہ خطے میں روایتی جنگ میں ناقابلِ شکست ہے۔
چار روزہ جنگ میں تاریخساز ہزیمیت اٹھانے کے بعد بھارت نے امریکہ، چین، ترکی، ایران ، آذر بائیجان اور پاکستان کے دیگر دوست ممالک سے رابطہ کرکے پاکستان سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ بھارت اگرچہ بعدازاں اس سے مکر گیا مگر امریکہ اور چین دونوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ انہوں نے کشیدگی کم کرانے اور جنگ رکوانے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔
امریکی صڈر ڈونالڈ ٹرمپ نے 8 بھارتی طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کے ساتھ ساتھ درجنوں بار اس جنگ کو رکوانے کا بھی دعویٰ کیا جس کی بھارتی وزیر اعظم نے کبھی تردید نہیں کی باوجود اسکے کی اپوزیشن اور میڈیا نے ان سے سوال بھی کیا کی اگر بھارت کی درخواست پر جنگ بندی نہیں ہوئی تو وہ ٹرمپ کے بیانات کی تردید کیوں نہیں کرتے۔ امریکہ اور چین کی طرف سے کئے جانے والےان انکشافات سے نہ صرف بھارت کے جھوٹ کا پول کھل گیا بلکہ تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہ کرنے کے اسکے غبارے سے بھی ہوا نکل گئی۔
مئی 2025 کی جنگ کے بعد پاکستان کی عالمی ساکھ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان کو ایک ذمہ دار، مضبوط، Net Stabilizer اور اسٹریٹیجک ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس تاریخ ساز فتح نے نہ صرف بھارت کی پاکستان و چین کے ساتھ بیک وقت جنگ لڑنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے دعوے یا خوش فہمی کو بھی زائل کیا بلکہ بھارت و چین کے درمیان جو دفاعی صلاحیت کے حوالہ سے خلیج تھی وہ وسیع تر ہو گئی۔ اسکے علاوہ امریکہ نے بھی بھارت کو خطے میں اسکے اسٹریٹیجک مفادات کے حصول کے لئے نااہل حلیف جان کر گود سے اتار دیا ۔ اسکے برعکس جس طرح اس نے پاکستان کی پذیرائی کی، پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ فارشل عاصم منیر کو پروٹوکول دیا، جنرل عاصم منیر کو صدر ٹرمپ نے الگ سے غیر معمولی عشائیہ دیا، وہ بے مثال تھا۔
جنگ مئی میں شاندار فتح کے بعد اقوام عالم میں پاکستان کے وقار اور قبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاع کا معاہدہ ہوا۔ چین، ترکی، ایران، عرب امارات، مصر، قطر لیبیا ، روس وغیر کے ساتھ پاکستان کے سیاسی،دفاعی اور معاشی تعلقات مستحکم ہوگئے۔ ترکی اور لیبیا کے ساتھ طیاروں اور دیگر دفاعی سامان کی ٖ فروخت کا معاہدہ کیا۔ بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت کے خاتمے کی صورت میں آنے والی انقلابی نوعیت کی سیاسی تبدیلی کے بعد پاکستان کو خلیج بنگال میں بھی زبردست اسٹریٹیجک برتری حاصل ہوئی۔
اقوام کی برادری میں پاکستان کی غیر معمولی پذیرائی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان ملکوں نے بھی یکساں طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھائے جن کے آپس میں اختلافات یا تنازعات ہیں۔ امریکہ ایران ، سعودی عرب ، رعب امارات اور ترکی وغیرہ کی مثال لیجئے ان کے آپس میں اختلافات اور تنازعات ہونے کے باوجود انھوں نے پاکستان سے مخالف ملک کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر اعتراض نہیں کیا بلکہ خود اپنے تعلقات مستحکم کئے، یہ پاکستان کی اہمیت کو اجاگر اور بھارت کے ان دعوؤں یا ارمانوں کو ملیایٹ کرتا ہے جن میں وہ پاکستان کو تنہاء کرنے کی باتیں کرتا تھا۔2025 میں امریکہ، چین، ایران، عرب امارات، آذر بائجان، پولینڈ اور دیگر ملکوں کے سربراہان مملک اور وزرائے خارجہ نے پاکستان کے دورے کئے۔
2025پاکستان کے لیے معاشی میدان میں بھی خوش آئند ثابت ہوا۔ برسوں کی مندی کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے شاندار بحالی کا مظاہرہ کیا اور 40 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر 1 لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی۔ یہ اعتماد، استحکام اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کے برعکس بھارت کے لیے 2025 داخلی بحرانوں، خارجہ محاذ پر ناکامیوں اور اخلاقی دیوالیہ پن کا سال ثابت ہوا۔ پاکستان کے ہاتھوں جنگی شکست کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسا غیر ذمہ دارانہ قدم اٹھایا، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بنا۔عالمی امن انڈیکس اور انسانی حقوق کی رپورٹس نے بھارتی عسکری جارحیت کو جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ منی پور میں بدامنی، مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں، بنگلہ دیش اور نیپال میں اثر و رسوخ کا خاتمہ، اور اندرونِ ملک سماجی احتجاجات نے بھارت کو اندر سے کمزور کر دیا۔
2025میں بھارت بھر میں ہندو فسطائیت اور اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا۔ مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں پر ہجومی تشدد، عبادت گاہوں کی مسماری اور بستیاں جلانے کے واقعات نے بھارت کے جمہوری دعوؤں کو بے نقاب کر دیا۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق تنظیموں نے بھارتی حکومت کی خاموشی اور سرپرستی پر سخت سوالات اٹھائے۔
بحیثت مجموعی، سال 2025 نے جنوبی ایشیا میں کئی تلخ مگر واضح حقیقتیں عیاں کر دیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر میں اضافہ، ڈیجیٹل نگرانی، پاک بھارت کشیدگی، پاکستان کی عسکری برتری اور بھارت کی داخلی و خارجی ناکامیاں، یہ سب عوامل اس سال کو ایک تاریخی سنگِ میل بناتے ہیں۔یہ سال اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جبر، فالس فلیگ آپریشنز اور عسکری غرور اب بھارت کے لیے کامیابی کی ضمانت نہیں رہےجبکہ پاکستان نے ثابت کیا کہ مضبوط دفاع، مؤثر سفارت کاری اور اصولی موقف ہی عالمی عزت اور استحکام کی بنیاد بنتے ہیں۔








