مضامین

جمہوریت کا نقاب، فسطائیت کا چہرہ: بھارت کی آزادیوں پر سیاہ سایہ

تحریر: ارشد میر
بھارت طویل عرصے سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کررہا ہےمگر حالیہ برسوں میں بے شمار واقعات، حکومتی پالیسیوں اور اقدامات نے مخملیں پردہ ہٹاکر اس کو چشم عالم کے سامنے ایک کریہہ صورت والے ہندو فسطائی ملک کے طور پر بے نقاب کیا ہے اور بھارت سمیت دنیا کا ہر انصاف و اصول پسند مبصر، تجزیہ کار، مصنف، صحافی، انسانی حقوق کا کارکن اپنی آراء، تجزیوں، تحاریر اورتحقیقی رپورٹس میں اسکی تصدیق کرتا ہے اور نقاب کو نوچ کر اس کا وہ چہرہ دکھاتے ہیں جسے جھوٹ اور پروپیگنڈہ میں چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ایک ایسا چہرہ جو جبر، تعصب اور فسطائیت سے بھرپور ہے۔۔ اس میں ایک تازہ اضافہ امریکہ میں قائم ایک معروف عوامی نیوز پورٹل beforeitsnews.com میں شائع ایک مفصل رپورٹ ہے جس میں “Shadows Over Rights and Freedoms in Contemporary India” یا معاصر بھارت میں آزادیوں پر سائے کے عنوان سے بھارت کے اندر ہندو فسطائیت کے بڑھتے ہوئے غلبہ، اقلیت کُشی ، انسانی حقوق کی پامالی، امتیازی اور نوآبادیا تی قوانین کے استعمال اور سماجی و ادارہ جاتی تعصب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔یہ رپورٹ محض ایک تنقیدی تحریر نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی و سماجی بحران کی تصویر کشی ہے جو بظاہر جمہوریت کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔ بھارت کا آئین بلاشبہ شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے جن میں آزادیٔ اظہار، مذہبی آزادی، مساوات اور انصاف شامل ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقوق عملی طور پر بھی اتنے ہی مضبوط ہیں جتنے کہ آئینی صفحات پر نظر آتے ہیں؟
رپورٹ میں سب سے اہم نکتہ آزادیٔ اظہار پر قدغنوں کا ہے۔ بھارت میں بظاہر ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے مگر حقیقت میں یہ حق متعدد قانونی اور غیر قانونی دباؤ کے تحت محدود ہو چکا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حالیہ تحقیقی مطالعے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں اختلافِ رائے کو نہ صرف ریاستی سطح پر دبایا جا رہا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی خوف کا ماحول قائم ہے جس کے باعث لوگ خود سنسرشپ اختیار کرنے پر مجبور ہیں ۔ یہ صورتحال کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک اشارہ ہےکیونکہ جمہوریت کی روح ہی اختلافِ رائے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔بھارت میں آزادیٔ اظہار کی بات کرنا اب ایک مذاق بن چکا ہے۔ جو شخص حکومت پر تنقید کرے، وہ “دیش دروہی”، “غدار” یا “ملک دشمن” قرار دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جمہوریت میں سوال پوچھنا جرم بن جائے تو پھر آمریت اور جمہوریت میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟
سیڈیشن (غداری) جیسے فرسودہ نوآبادیاتی قوانین آج بھی پوری طاقت کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی بھارت جو برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی کہانیاں سناتا ہےآج انہی سامراجی قوانین کو اپنے شہریوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔طلبہ، صحافی، سماجی کارکن،کوئی بھی محفوظ نہیں۔ اختلاف رائے رکھنے والا ہر شخص ایک ممکنہ مجرم ہے۔ گویا بھارت میں اب جرم کا تعین عدالت نہیں بلکہ حکومت کی ناراضی کرتی ہے۔
رپورٹ میں ریاستی اداروں، خصوصاً پولیس اور عدالتی نظام کے کردار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ بھارت کا فوجداری نظام، جو بڑی حد تک نوآبادیاتی ڈھانچے پر قائم ہے، آج بھی ریاست کو غیر معمولی اختیارات دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ نظام کمزور اور پسماندہ طبقات کے خلاف زیادہ سختی سے استعمال ہوتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات کے باوجود انصاف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ مقدمات کی طوالت، پولیس کی زیادتیاں اور سیاسی اثر و رسوخ عدل کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس پس منظر میں مضمون کا یہ دعویٰ کہ بھارت میں قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، حقیقت کے قریب محسوس ہوتا ہے۔
قانون کسی بھی ریاست کی بنیاد ہوتا ہے مگر بھارت میں یہی قانون اب انصاف کے بجائے انتقام کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی ادارے حکومتی ایجنڈے کے مطابق کام کرتے نظر آتے ہیں۔جس ملک میں ضمانت ایک استثنا اور جیل معمول بن جائے، وہاں انصاف کا تصور خود ایک لطیفہ بن جاتا ہے۔ مقدمات برسوں چلتے رہتے ہیں مگر سزا سے پہلے ہی ملزم کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ یہی وہ “خاموش سزا” ہے جو بھارت میں عام ہو چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھارت میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ “حکمرانوں کا قانون” چل رہا ہے۔
رپورٹ کا ایک اہم پہلو بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی (Hindutva) اور اس کے اثرات ہیں۔ اس نظریے کے تحت بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے بجائے ہندو شناخت پر مبنی ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو امتیازی سلوک، تشدد اور سیاسی تنہائی کا سامنا ہے۔یہ صورتحال بھارت کے آئینی دعووں کے بالکل برعکس ہے جن میں مذہبی آزادی اور مساوات کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے ۔ مگر عملی طور پر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ، ہجوم کے ہاتھوں قتل اور امتیازی قوانین اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔
بھارت کی موجودہ صورتحال کو سمجھے بغیر ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظریہ دراصل بھارت کی روح یعنی ‘کثرت میں وحدت’کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو نہ صرف سماجی بلکہ سیاسی طور پر بھی دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ گائے کے نام پر قتل، مساجد پر حملے، مذہبی جلوسوں میں اشتعال انگیزی،یہ سب اب معمول بن چکا ہے۔اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ریاست کی خاموش حمایت یا کم از کم چشم پوشی کے بغیر ممکن نہیں۔اگر یہی صورتحال جاری رہی تو بھارت ایک کثیر الثقافتی ریاست نہیں بلکہ ایک تنگ نظر مذہبی ریاست بن کر رہ جائے گاجہاں “دوسرا” ہونا جرم ہوگا۔
بھارت کا میڈیا، جو کبھی جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا تھا، آج بڑی حد تک حکومتی بیانیے کا ترجمان بن چکا ہے جس کی وجہ سے اسے حقارتاََ’ گودی میڈیا’ کہا جاتا ہے۔ پرائم ٹائم شوز اب صحافت نہیں بلکہ پروپیگنڈہ ہوتے ہیں، جہاں سوال نہیں کیے جاتے بلکہ فیصلے سنائے جاتے ہیں، چلایا جاتا ہے ، رائے لینے کے بجائے رائے ٹھونسی جاتی ہے۔آزاد صحافیوں کو یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے یا انہیں حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ بڑے میڈیا ہاؤسز کارپوریٹ اور سیاسی دباؤ کے آگے جھک چکے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو وہی سچ دکھایا جاتا ہے جو حکومت دکھانا چاہتی ہےاور جو سچ چھپانا چاہتی ہے، وہ کبھی سامنے نہیں آتا۔ یہ رجحان خطرناک اس لیے ہے کہ جب میڈیا غیر جانبدار نہ رہے تو عوام تک سچائی نہیں پہنچ پاتی۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا مصنوعی بیانیہ تشکیل پاتا ہے جو ریاستی پالیسیوں کو جائز قرار دیتا ہے اور عوامی شعور کو محدود کر دیتا ہے۔
رپورٹ دراصل اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا بھارت واقعی ایک جمہوری ریاست ہے یا محض ایک اکثریتی آمریت (majoritarianism) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کا دارومدار شہری آزادیوں، اداروں کی خودمختاری اور قانون کی بالادستی پر ہوتا ہے۔بھارت میں بظاہر دنیا کے سب سے بڑے انتخابات ہوتے ہیں، ووٹ ڈالے جاتے ہیں، حکومتیں بنتی ہیں مگر کیا یہی جمہوریت ہے؟ اگر اکثریت کے نام پر اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جائیں، اختلافِ رائے کو دبایا جائے، اقلیتوں کو نشانہ بنایا جائے،ریاستی طاقت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، اداروں کو تابع بنا لیا جائے اور جموں کشمیر جیسے متنازعہ علاقہ کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیکر اہل علاقہ کو دس لاکھ فوج کے ذریعہ دبانے کے لئے بدترین ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کیا جائے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ اکثریتی آمریت ہوتی ہے۔جمہوریت صرف ووٹ کی طاقت نہیں بلکہ حقِ اختلاف، انصاف اور مساوات کا نام ہے اور یہی چیزیں آج بھارت میں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔وہ عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار جمہوری طاقت کے طور پر پیش کرتا ہےمگر اندرونی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مغربی دنیا بھی اپنے مفادات کی خاطر اکثر ان حقائق سے چشم پوشی کرتی ہے۔یہ دوہرا معیار نہ صرف بھارت بلکہ عالمی نظام کی بھی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے—جہاں انسانی حقوق سے زیادہ جغرافیائی سیاست اہم ہو چکی ہے۔
مذکورہ رپورٹ دراصل ایک وارننگ ہے ایک ایسی ریاست کے لیے جو اپنے ہی نظریاتی ستونوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ بھارت اگر اسی راستے پر چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب اس کی جمہوریت محض ایک یادگار بن کر رہ جائے گی۔ایک ایسا خواب جسے کبھی حقیقت سمجھا جاتا تھا۔آج بھارت کے سامنے دو راستے ہیں، یا تو وہ اپنے آئینی وعدوں کی طرف واپس لوٹے، یا پھر فسطائیت کے اندھیرے میں مزید گم ہو جائے۔اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے،وہ نہ نعروں کو یاد رکھتی ہے، نہ دعووں کو، بلکہ صرف عمل کو۔لب لباب یہ کہ “Shadows Over Rights and Freedoms in Contemporary India” صرف ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہےجو بھارت کو اس کا اصل چہرہ دکھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اس آئینے میں خود کو دیکھنے اور اپنی اصلاح کرنے کے لیے تیار ہے؟

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button