مقبوضہ کشمیر : چینی سیاح کی گرفتاری کے بعد غیر ملکیوں کے داخلے کی نگرانی مزید سخت کردی گئی
متعدد ہوٹلوں ، گیسٹ ہائوسز او ر ہائوس بوٹس مالکان کے خلاف مقدمات درج
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے چینی سیاح کی گرفتاری کے بعد مقبوضہ علاقے میں غیر ملکیوں کے داخلے کی نگرانی مزید سخت کردی ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے غیر ملکی سیاحوں کے قیام کی اطلاع نہ دینے پر سرینگر میں متعدد ہوٹلوں، ہائوس بوٹس اور گیسٹ ہائوسز کے خلاف مقدما ت درج کئے ہیں۔مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال معمول پر آنے اوربڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کی دعویدار بھارتی قابض انتظامیہ نے امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ کے تحت کسی بھی غیر ملکی سیاح کو اپنے ہوٹل، گیسٹ ہائوس یا ہائوس بوٹ میں مقیم رکھنے کی اطلاع فارنرز رجسٹریشن آفس کو فراہم کرنا ضروری قراردے رکھا ہے۔ہوٹل مالکان اور تاجروں نے بھارتی قابض انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اقدام سیاحت پر مبنی مقبوضہ کشمیر کی معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔ کشمیری ٹورازم آپریٹرز کا کہنا ہے کہ قابض حکام نے سیاحت کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کے خلاف انتقامی کارروائی کرکے سیاحوں کی مقبوضہ کشمیر آمد کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ان اقدامات سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارتی قابض انتظامیہ کی شدید گرفت ہے جہاں محکوم کشمیریوں کواپنی مرضی سے سانس لینے کی بھی آزادی نہیں ہے ۔
واضح رہے کہ بھارتی قابض انتظامیہ نے گزشتہ روز مبینہ طورپر ویزا شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں وکشمیر اور لداخ کا سفر کرنے پر ایک چینی شہری کو حراست میں لیاتھا۔ چینی سیاح ہو کونگٹائی 19نومبر کو سیاحتی ویزے پر نئی دلی اور 20نومبر کو ایک پرواز کے ذریعے لہہ پہنچا تھا۔بھارتی پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ چینی شہری کے موبائل فون پر اگست 2019میں دفعہ370کی یکطرفہ منسوخی سے متعلق سرچ پائی گئی ہے ۔





