سرینگر :نیشنل کانفرنس کا ریاستی درجے کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس نے علاقے کا ریاستی درجہ فوری طورپر بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔پارٹی نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کیلئے بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نیشنل کانفرنس نے سری نگر میں اپنے پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ دو روزہ ورکنگ کمیٹی اجلاس میں بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرے جسکا اس نے پارلیمنٹ کے فلور پر وعدہ کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پارٹی کے نائب صدر اور مقبوضہ علاقے کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور دیگر سینئر رہنما شریک تھے۔
اجلاس میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ لوگوں کی امنگوں اور وقار کا معاملہ ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر حل کیا جانا چاہیے۔ ورکنگ کمیٹی نے بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیری طلباءاور تاجروں کو ہراساں کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے باشندوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں عمر عبداللہ کی سربراہی میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم ہے البتہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے تمام اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے سپرد کر رکھے ہیں۔ عمر عبداللہ کے پاس علاقے کے انتظامی معاملات کے حوالے سے کسی قسم کے کوئی اختیارات نہیں ہیں اور وہ خود اس حوالے سے اپنی بے بسی کا کئی مرتبہ اعتراف کر چکے ہیں۔مودی حکومت لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے آزادی پسند کشمیریوں کے گھروں کی ضبطی ، مسماری ، ملازمین کی جبری برطرفی اور جبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔





