میر واعظ کی سیاسی رہنمائوں کو احتجاج کی قیادت سے روکنے کے لیے گھرمیں نظر بند کرنے کی مذمت
سرینگر:
بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے سیاسی رہنماں، کارکنوں اور طلبا کے نمائندوں کی گھروں میں نظربندی کی مذمت کی جنہیں علاقے میں بھارتی حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف سرینگرمیں طلباء کے ایک پرامن احتجاج کی قیادت کرناتھی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میرواعظ نے سماجی رابطوں کی سائٹ ”ایکس ” پر لکھا” خواہ پرامن احتجاج ہو یا کوئی اورمعاملہ، بھارتی حکومت کا کشمیر سے متعلق ہر مسئلے کا پہلے سے ایک طے شدہ ردعمل ” طاقت کا استعمال” رہا ہے ، طلباء ریزرویشن پالیسی کے خلاف پرامن احتجاج کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ اسے غیر منصفانہ اور اپنے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔”میرواعظ نے کہا” عوامی خدشات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے نہ کہ پابندیوں یا سزا ئوںکے ذریعے۔”
میرواعظ نے مقبوضہ علاقے کی منتخب حکومت کوبھی تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوری حقوق کا تحفظ کرے ، نوجوانوں کے خدشات سے نئی دہلی کو آگاہ کرے اور ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرے۔انہوں نے ہریانہ، ہماچل پردیش اور بھارت کے دیگر حصوں میں کشمیریوں کوہراساں کرنے کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ حکومت کو اس معاملے کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔
یاد رہے کہ بھارتی انتظامیہ نے کشمیری سیاست دانوں محبوبہ مفتی ،آغا روح اللہ مہدی، عبدالوحید پرہ اور سابق میئرسرینگر جنید عظیم متو کو احتجاج کی قیادت سے روکنے کے لیے سرینگرمیں گھروں میں نظر بند کردیا۔








