بھارت: نام نہاد گاﺅ رکشاﺅں کیطرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری
نئی دہلی: بھارت میں رواں برس بھی نام نہاد گاﺅ رکشا ﺅں کیطرف سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ غنڈے بی جے پی کی ہندو توا حکومت کی سرپرستی میں گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں کو ہرساں کرنے اور انہیں پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا اپنا بہیمانہ عمل بغیر کسی ڈر و خوف کے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حکمران بی جے پی کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے قریبی تعلق رکھنے والے گاﺅ رکشا ﺅں نے رواں برس 14 مارچ کو گجرات میں ایک عورت کو گوشت رکھنے پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح کے واقعات 25 جنوری کو اتر پردیش کے سہارنپور ضلع اور 7 جون کو راجستھان کے الور ضلع سمیت دیگر جگہوں پر بھی پیش آئے ہیں۔ بہار کے ضلع گوپال گنج میں 20 اگست کو ایک مقامی ہندو رہنما پردیپ موریا نے ایک معمر مسلمان جوڑے پر گائے کی سملنگ کا جھوٹا الزام لگایا اور اس پر سخت تشدد کیا۔2018 کی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے5ہزار کارکنوں کو بھرتی کیا ہے جو گائے کی نام نہاد اسمگلنگ اور لو جہادکو کنٹرول کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
دریں اثنا اقوام متحدہ نے ان گروہوں کو مسلمانوں اور اقلیتوں کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کو اجاگر کیا ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ حکومتی سرپرستی میں ہونے والے ان شدت پسند گروپوںکے تشدد کے باعث بھارت کی جمہوری بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ان گروپوں کے باعث اقلیتی برادریوں کی سلامتی سخت خطرے سے دوچار ہے لہذا ان کا احتساب ضروری ہے






