مضامین

بھارتی جنگی تابریاں

خطے کی سب سے بڑی فوج کو سب سے زیادہ خوف؟

ارشد میر

بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی کے حالیہ بیانات محض عسکری حکمتِ عملی کی وضاحت نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے لیے ایک گہری اور خطرناک سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ بھارت اپنی فوج کو جدید کیوں بنا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آخر بھارت کس کے خلاف یہ وسیع جنگی تیاریاں کر رہا ہے؟ اگر بھارت خطے کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت ہے، جس کا دفاعی بجٹ اب 30 فیصد اجافے کے ساتھ 75 بلین ڈالر سے تجاوز کر نے والا ہے تو پھر اُسے کس سے اتنا شدید خطرہ لاحق ہے؟ اس کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ محض 9 بلین ڈالر کے قریب ہے جو طاقت میں تفاوت کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔پاکستان کے مقابلہ میں فوج کی تعداد دوگنا، بحٹ 9 گنا زیادہ اور ہتھیار( ٹینک4,200 کے مقابلہ میں 2627، جنگی طیارے 2229 کے مقابلہ میں 1399، بحری بیڑہ 293 کے مقابلہ میں 121، آرمڑ گاڑیاں 148000 کے مقابلہ میں 17500)1.6 سے لیکر 8.5 گنا زیادہ ہونےکے باوجود بھارت کا عسکری بیانیہ جارحانہ، خوف پر مبنی اور مسلسل تصادم کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے۔

یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بھارت کی جنگی تیاریاں دفاعی کم اور توسیع پسندانہ زیادہ ہیں۔ "مستقبل کی جنگوں” کا شور دراصل اکھنڈ بھارت کے اس نظریے کی بازگشت ہے جس کے تحت خطے میں جغرافیائی، سیاسی اور تہذیبی غلبہ حاصل کرنا ہندوتوا قیادت کا دیرینہ خواب رہا ہے۔ یہی سوچ بھارت کو اپنے ہر ہمسایہ ملک سے متصادم رکھتی ہے۔ نیپال پر دھونس، سری لنکا میں مداخلت، مالدیپ پر دباؤ، بنگلہ دیش کے معاملات میں اثراندازی اور میانمار سے خفیہ روابط، یہ سب اسی توسیع پسندانہ پالیسی کے مختلف مظاہر ہیں۔ تاہم پاکستان اس پالیسی کا مرکزی ہدف رہا ہے۔

بھارت نے اپنے قیام کے ہی ساتھ پنج شیل اور اہنساء کے نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔ 1947، 1965، 1971 اور 2025 کی جنگیں، مشرقی پاکستان میں فوج کشی، سرحدی کشیدگی، فالس فلیگ آپریشنز ،دہشت گردی کی سرپرستی، پروپیگنڈہاور(Demean, Damage, Destabilize)3D پالیسی ، یہ سب اسی دیرینہ جارحیت اور دشمنی کا تسلسل کا حصہ ہے جو بھارت کے نظام میں ایک داعمی مرض کی طرح داخل ہوچکا ہے۔ مگر ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہبھارت نے ان 78 برسوں میں حاصل کیا کیا؟ اس سوال کا جواب خود بھارتی عسکری اور سیاسی تجزیہ کار دیتے ہیں۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) یش مور سمیت متعدد سنجیدہ بھارتی آوازیں کھلے عام تسلیم کر چکی ہیں کہ بھارت ان تمام تر فوجی تیاریوں کے باوجود آج تک نہ تو پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سرحد تبدیل کر سکا اور نہ ہی کنٹرول لائن کو ایک فٹ آگے پیچھے کر پایا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو بھارتی عسکری جنون کی ناکامی کو بے نقاب کرتی ہے۔

اس کے باوجود بھارت دفاعی طاقت کے جنون سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ بھارت ایک عام ریاست نہیں رہا بلکہ ایک منفی وخطرناک نظریاتی ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہندوتوا، قوم پرستی، نسل پرستی، مذہبی انتہا پسندی، وطنی جنونیت اور عسکریت ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بہت سے عالمی اور خود بھارتی تجزیہ کار بھارت کا موازنہ نازی جرمنی سے کرنے لگے ہیں۔ آج کا ہندو فسطائی بھارت، ریاستی پروپیگنڈا، اقلیتوں کو کچلنے، اختلاف کو غداری قرار دینے اور عسکری طاقت کو قومی عظمت کا پیمانہ بنانے میں ہٹلر کے جرمنی سے خطرناک مماثلت رکھتا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ ہٹلر کے پاس ایٹمی ہتھیار، فورتھ اور ففتھ جنریشن جنگی طیارے اور سپر و ہائپر سونک میزائل نہیں تھےجبکہ نریندر مودی کے بھارت کے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو عالمی برادری کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک ہونا چاہیے۔ ماضی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دنیا بھر میں شور مچایا گیا کہ یہ ہتھیار کہیں طالبان یا دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ محض پروپیگنڈا، تعصب اور مصنوعی طور پر پیدا کردہ تشویش تھی۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ثابت ہوا۔

لیکن بھارت کے بارے میں یہ معاملہ حقیقی اور کہیں زیادہ سنگین ہے۔ یہاں ایٹمی ہتھیار ایک ایسی قیادت کے ہاتھ میں ہیں جو توسیع پسند، نسل پرست، مذہبی جنونی اور فسطائی نظریات رکھتی ہے۔ جب ریاستی پالیسی مذہبی برتری، نفرت اور عسکری غلبے پر استوار ہو جائے تو ایٹمی صلاحیت دفاع نہیں بلکہ عالمی خطرہ بن جاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اپنی عسکری برتری کے زعم سے باہر نکلے اور زمینی حقائق کو تسلیم کرے۔ کشمیر ایک حل طلب تنازعہ ہے جسے نہ بندوق، نہ قانون، اور نہ ہی عسکری دباؤ سے حل کیا جا سکتا ہے۔ خود بھارت کے سنجیدہ حلقے یہ مانتے ہیں کہ طاقت کے استعمال نے مسئلے کو مزید پیچیدہ ہی بنادیا ہے۔ اگر واقعی بھارت خطے میں قیادت کا خواہاں ہے تو اسے جنگی تیاریوں کے بجائے امن،مکالمے اور انصاف کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ کشمیر کے مسلہ کو سردست استصواب رائے اور تاریخی و زمینی حقائق کی بنیاد پر حل کرنا چاہئے کہ یہی مسلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نزع کی بنادی وجہ اور بھارت کے جنگی جنون کا محرک ہے۔عالمی برادری کو بھی اب خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے۔ ایک ایٹمی، فسطائی اور توسیع پسند بھارت جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا نے ہٹلر کو نظرانداز کیا تو اس کی قیمت کروڑوں جانوں کی صورت میں چکانی پڑی۔ آج وقت ہے کہ بھارت کے عزائم کو سنجیدگی سے لیا جائے، ورنہ کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button