یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں لاہور میں سیمینار کا انعقاد
لاہور:یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میںلاہور بار ایسوسی ایشن اور کشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیمینار سے امیرجماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری، صدر لاہور بار عرفان حیات باجوہ،انچارج کشمیرسنٹرلاہور انعام الحسن کاشمیری، فہد نثار کھوکھر،وکلاءرہنماﺅں منظور حسین گیلانی ایڈووکیٹ، الطاف گجر ایڈووکیٹ، عطاءاللہ اصلاحی ایڈووکیٹ اوردیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ کشمیری پاکستانیوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ ہم ایک جسم کی مانند ہیں۔ ہمیں کوئی جدا نہیں کرسکتا۔ کشمیر آزادہوکر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد کشمیریوں کو اپنی حمایت، تعاون اور مدد کا یقین دلا نا ہے۔ کشمیرکامسئلہ کشمیر ی عوام کی امنگوں اور خواہشوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مقررین نے کہا کہ ہم یہاں صرف ایک پروگرام کے لیے جمع نہیں ہوئے،ہم آج ضمیر کی نمائندگی، قانون کی گواہی اور انصاف کے وعدے کے ساتھ کھڑے ہیں۔یومِ یکجہتی کشمیر ایک دن نہیں یہ ایک مسلسل مو¿قف ہے۔ وکلاء برادری نے ہمیشہ تاریخ کے مشکل موڑ پرقلم، قانون اور کردار کے ساتھ حق کا ساتھ دیا ہے۔کشمیر کی آزادی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں،یہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا کھلا مقدمہ ہے۔لاہور بار ایسوسی ایشن اور جموں و کشمیر لبریشن سیل واضح اور دو ٹوک مو¿قف رکھتے ہیں۔ کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔یہ کوئی رعایت نہیں، یہ ان کا حق ہے۔آج کی یہ تقریب یکجہتی کو علامت سے نکال کرعمل، آواز اور وکالت میں بدلنے کی ایک کوشش ہے۔مقررین نے کہاکہ ہم اس واضح موقف کے ساتھ ہیں کہ کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دیرینہ تنازعہ ہے اور اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ میں بھی یہ قرارداد پاس ہوئی کہ کشمیری عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ کشمیری عوام نے شب و روز کی جدوجہد سے لازوال قربانیاں پیش کرتے ہوئے بتا دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد پر ہے۔آج بھی اگر پانچ فروری کو یہ دن منایا جاتا ہے تو یہ ایک وعدہ ہے کہ ہم پاکستانی عوام اس بات پر بالکل واضح ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ۔ اس موقع پر کئی قراردادیں منظورکی گئیںجن میں عالمی برادری سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں بند کرائے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو ان خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی اجازت دلائے ۔






