مقبوضہ جموں و کشمیر

بادل پھٹنے سے بے گھر ہونے والے سینکڑوں خاندان ٹھٹھرتی سردی میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ضلع کشتواڑ کے دور افتادہ علاقے وادی وارڈون میں سیکڑوں خاندان جو اگست میں بادل پھٹنے سے بے گھر ہو گئے تھے ،قابض حکام کی بے حسی کی وجہ سے ٹھٹھرتی سردیوں میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبورہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وارڈون کے علاقے مارگی میں جس میں 500سے زائد گھرانے رہتے ہیں،لوگوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت منفی 20ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کے بعد انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ایک پچاس سالہ مزدور عبدالرشید اپنی بیوی، پانچ بچوں اور ایک شادی شدہ بیٹے کے اہلخانہ کے ساتھ ٹین کے ایک شیڈ میں رہتاہے کیونکہ 26اگست کو سیلاب میں ان کا گھربہہ گیاتھا ۔عبدالرشید نے صحافیوں کو بتایاکہ ضلعی حکام نے ملبے کو ہٹانے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ابھی تک پورے گائوں میں پڑا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اس شدیدسردی میں اس شیڈ میں رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔سیلاب ہمارے گھر، مویشی اور آلو کے کھیت بہا لے گیااورہمارے پاس اب کوئی ذریعہ معاش نہیں رہا۔ مارگی جو آلو کے کھیتوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے جانا جاتا ہے، سب سے زیادہ متاثرہ دیہاتوں میں شامل ہے۔ سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 224رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا تھاجن میں سے50مکمل تباہ ہوئے،130کو شدید نقصان پہنچا اور 44جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ کم از کم 45 مویشی ہلاک ہوئے اور گائوں کی دکانوں اور جامع مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔لیکن دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کے حقیقی پیمانے کو بہت کم سمجھا گیا ہے۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ صرف مارگی میں 300کے قریب خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ ڈھانچے کو شمار کرتی ہے، خاندانوں کو نہیں۔ایک چھت کے نیچے کئی کئی خاندان رہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فیاض احمد لون، غلام محی الدین لون اور شبیر احمدتین بھائی ہیں جنہیں الگ الگ خاندان ہونے کے باوجود صرف ایک خاندان کا معمولی معاوضہ دیاگیا۔ دو بھائی دوسرے گائوں میں رشتہ داروں کے گھروں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئے جبکہ تیسرا اسلام آباد قصبے میں کرائے کے کمرے میں رہتا ہے۔بہت سے رہائشی اسی طرح کی کہانیاں سناتے ہیں۔ اپنا گھر اور سامان کھونے والے محمد یوسف لون نے رشتہ داروں کے پاس پناہ لے لی ہے۔ اس کا شادی شدہ بیٹا اب اپنے سسرال میں رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری بیٹیوں نے اپنی کتابیں بھی کھو دیں۔مقبول احمد نے جس کا اپنا گھر بری طرح تباہ ہوا ہے ،کہاکہ معاشی طور پر کمزور ہونے کے باوجود وارڈون کے رہائشی کئی مہینوں سے بے گھر خاندانوں کو پناہ دے رہے ہیں۔لوگوں نے اپنے گھر کھول لیے ہیں لیکن وہ خود چھوٹی جگہوں پر رہتے ہیں، وہ ہمیں کب تک جگہ دے سکتے ہیں؟انہوں نے کہاکہ وادی وارڈون ہر موسم سرما میں مہینوں تک منقطع رہتی ہے کیونکہ شدید برف باری سے مارگن ٹاپ کو جانے والاواحد راستہ بند ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ علاقہ ضلع کشتواڑ کے تحت آتا ہے لیکن لوگوں کو اپنے علاقے تک پہنچنے کے لیے اسلام آباد کے علاقے کوکر ناگ سے گزرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ قابض حکام کی بے حسی نے پوری وادی کو سردی اوربھوک کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا ہے جو حکام کی بے حسی کا زندہ ثبوت ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button