مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی انتظامیہ نے امرناتھ یاترا کیلئے بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کر لیے

کشمیری مسلمان دیگر بنیادی حقوق کیساتھ ساتھ مذہبی حقوق سے بھی محروم

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے ہندوئوں کی سالانہ امر ناتھ یاترا کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات اور حفاظتی اقدامات کا عمل شروع کر دیا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق 38روز یاترا 3جولائی سے شروع ہو گی۔ انتظامیہ نے یاترا کے محفوظ ا انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا جدید نظام اور خصوصی سیکورٹی یونٹس تشکیل دیے ہیں۔400 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب اور بلند و بالا واچ ٹاورز قا ئم کیے گئے ہیں۔ بھارتی فورسز نے یاترا کے راستے اور بیس کیمپوں کے ساتھ اہم مقامات پر جدید نگرانی کا بنیادی ڈھانچہ نصب کیا ہے۔ تیاریوں کا اندازہ لگانے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فرضی مشقیں بھی کی جا رہی ہیں۔تیاری کی مشق کے ایک حصے کے طور پر گزشتہ روز پہلگام کے نونوان بیس کیمپ میں ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا گیا۔ ضلع اسلام آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس امود ناگپورے نے ایک بھارتی خبر رساں ادارے کو بتایا کہا کہ یاترا کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے اور اسلام آباد قصبے سے امرناتھ غار تک پیرا ملٹری سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف)کی تقریبا 140 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کی خصوصی یونٹس بشمول مارخور ٹیمیں، سنو لیپرڈ یونٹس، اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی)، موبائل ریسکیو ٹیمیں (ایم آر ٹی)اور کوئیک ری ایکشن ٹیمیں (کیو آر ٹی ) بھی راستے میں اسٹریٹجک مقامات پر تعینات ہیں۔ ناگپورے نے کہا کہ ہم نے پورے اسلام آباد ضلع کو 19 سیکورٹی زونز میں تقسیم کیا ہے، جن میں سے ہر ایک کی نگرانی سینئر پولیس افسران کرتے ہیں۔ چیکنگ اور تلاشی کو تیز کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوج اور دیگر فورسز پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائیاں عمل میں لا رہی ہیں اورتمام راستوں، پٹریوں، کھائیوں اور ندی نالوں کو مکمل طور پر چیک کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت ایک طرف امرناتھ یاتر ا کے انعقاد کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات بروئے کار لا رہی ہے جبکہ دوسری طرف اس نے کشمیری مسلمانوں کے دیگر بنیادی حقوق کیساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں ۔ کشمیری مسلمانوں کو نماز جمعہ اور عید نمازوں کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اکثر و بیشتر سیل کر دی جاتی ہے ۔ گزشتہ 8 برس سے کشمیری مسلمانوں کو جامع مسجد سرینگر اور عید گاہ سرینگر میں عید نماز کی ادائیگی سے مسلسل روکا جا رہا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں محرم الحرام کے بڑے جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button